جرمن خفیہ اداروں نے لیپزگ میں ڈی ایچ ایل کے لاجسٹک ہب پر ہونے والے ناکام ڈرون حملے کا ذمہ دار باضابطہ طور پر روس کو ٹھہرایا ہے۔ جولائی میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بڑی تباہی بن سکتا تھا، جب ایک پارسل میں موجود آتش گیر مواد طیارے میں لوڈ کیے جانے سے قبل ہی مرکز میں پھٹ گیا۔
وفاقی پراسیکیوٹر جینز رومیل نے تصدیق کی ہے کہ تفتیش اب اسے ایک منظم تخریبی کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کے تانے بانے براہِ راست روس سے ملتے ہیں۔ یورپ بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں گزشتہ کئی ماہ سے اس خدشے کا اظہار کر رہی تھیں کہ ماسکو مغربی ممالک کی سپلائی چین کو نشانہ بنانے کے لیے "ہائبرڈ وارفیئر” کا سہارا لے رہا ہے۔
اس حملے میں استعمال ہونے والا آلہ ایک مساج کرنے والی مشین کے اندر چھپایا گیا تھا، جسے طیارے کی پرواز کے دوران پھٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اگر یہ پارسل بروقت طیارے میں منتقل ہو جاتا، تو ممکنہ طور پر یہ طیارہ بحر اوقیانوس کے اوپر تباہ ہو جاتا۔
جرمنی کی وزیر داخلہ نینسی فیسر نے اسے ملکی سلامتی کے لیے ایک "سنگین خطرہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ روسی انٹیلی جنس کی جانب سے یورپی انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو جانچنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔
مغربی سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یوکرین پر حملے کے بعد سے جاری آتش زنی، سائبر حملوں اور جی پی ایس جامنگ کے واقعات کا تسلسل ہے۔ جرمن حکام کے لیے، تخریبی کارروائیوں کا یہ رخ اب ایک نئی اور خطرناک حد کو عبور کر چکا ہے جہاں عام شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔
کریملن نے روایتی انداز میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد” اور مغربی پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ تاہم، جرمن حکام اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہ رہے۔ انہوں نے اہم شپنگ ہبز پر سیکیورٹی کے ضوابط سخت کر دیے ہیں اور برطانیہ اور پولینڈ کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تفتیش کار اب اس پارسل کے سفر اور اس میں ملوث نیٹ ورک کو ٹریس کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ روس نے کن راستوں سے سیکیورٹی اسکریننگ کو دھوکا دیا۔ برلن کا پیغام اب واضح ہے: لاجسٹک مراکز میں آنے والی ہر مشکوک چیز کو اب صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ایک ممکنہ حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
