آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان رہنماؤں پر بغاوت اور عوام کو اشتعال دلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام خطے میں بجلی کی قیمتوں اور آٹے پر سبسڈی کے معاملے پر ہونے والے طویل احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
پولیس حکام نے منگل کی رات تصدیق کی کہ انسدادِ دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، حالیہ دھرنوں کے دوران دی گئی تقاریر نے پرامن احتجاج کی حدود پار کر کے ریاستی عملداری کو چیلنج کیا ہے۔
جے اے اے سی کے نزدیک یہ اقدام محض انتقامی کارروائی ہے۔ مئی کے مہینے میں شٹر ڈاؤن ہڑتالوں اور ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد کمیٹی نے دوبارہ منظم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت نے بغاوت کے الزامات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تحریک کے مرکزی رہنماؤں کو میدان سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ریاست پرانے نوآبادیاتی ہتھکنڈے استعمال کر کے جائز مطالبات کو دبانا چاہتی ہے۔ وہ مہنگائی کا حل نکالنے کے بجائے ان لوگوں کو مجرم قرار دے رہے ہیں جنہوں نے عوام کی آواز اٹھائی۔”
دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ یہ احتجاج محض معاشی ریلیف تک محدود نہیں تھا، بلکہ اسے ریاست مخالف عناصر کی جانب سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ چیف سیکرٹری آفس کے مطابق، پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن تشدد پر اکسانا اور اہم شاہراہوں کو بلاک کرنا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اس کریک ڈاؤن کے فوری ردعمل میں مظفر آباد میں کارکنوں کی جانب سے احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین اس اقدام کو سیاسی اختلاف کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے عدالتوں میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ قانونی پیش رفت حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان گرمیوں میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کا خاتمہ ہے۔ بغاوت کے الزامات کے تحت عمر قید یا سزائے موت کا سامنا کرنے والے رہنماؤں کی موجودگی میں مذاکرات کا امکان اب نہ ہونے کے برابر ہے۔
خطہ ایک بار پھر بدامنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکومت کا داؤ یہ ہے کہ قانونی دباؤ تحریک کو توڑ دے گا، تاہم خدشہ یہ ہے کہ یہ اقدام احتجاج کو مزید گہرائیوں میں لے جائے گا، جہاں اسے کنٹرول کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوگا۔
