تمباکو بنانے والی بڑی کمپنی ’الٹریا گروپ‘ نے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ریگولیٹری ادارے کی جانب سے نئی مصنوعات کی منظوری کے عمل میں بلاجواز تاخیر نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ایف ڈی اے نے ہزاروں درخواستوں پر برسوں سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، جس سے مارکیٹ میں ایک غیر اعلانیہ تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ الٹریا کے مطابق، یہ تاخیر نہ صرف نئی مصنوعات کے اجراء میں رکاوٹ ہے بلکہ یہ ان متبادل مصنوعات کو بھی صارفین تک پہنچنے سے روک رہی ہے جو روایتی تمباکو کی نسبت کم نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
ایف ڈی اے کے ضوابط کے تحت، کسی بھی نئی تمباکو پروڈکٹ کو فروخت کرنے سے قبل کمپنی کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ "عوامی صحت کے تحفظ کے لیے موزوں” ہے۔ الٹریا کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام مطلوبہ ڈیٹا جمع کروا دیا ہے، تاہم ایجنسی کی جانب سے نکوٹین پاؤچز اور ای-ویپر جیسی مصنوعات کی درخواستوں پر مسلسل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
الٹریا کے ترجمان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایف ڈی اے کی غیر فعالیت صرف ایک ریگولیٹری رکاوٹ نہیں، بلکہ یہ جدت پسندی کے راستے میں دیوار ہے۔” کمپنی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ایف ڈی اے کو پابند کرے کہ وہ زیر التواء درخواستوں پر ایک مقررہ مدت کے اندر حتمی فیصلہ کرے۔
ایجنسی کا اپنا موقف اس سے مختلف ہے۔ 2020 کی ڈیڈ لائن کے بعد ایف ڈی اے کو لاکھوں درخواستیں موصول ہوئیں، جس سے ادارے کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ ایف ڈی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو ان مصنوعات کی جانچ پر مرکوز کر رہے ہیں جو نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جیسے کہ ڈسپوزایبل ویپس۔
دوسری جانب، عوامی صحت کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ بیک لاگ کمپنیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ناقص درخواستیں جمع کروانے کا نتیجہ ہے۔ ان ماہرین کے مطابق، ایف ڈی اے کا محتاط رویہ ضروری ہے تاکہ نکوٹین کی نئی لت کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
الٹریا کا یہ قانونی اقدام ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگر عدالت کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو یہ ایف ڈی اے کی فیصلہ سازی کے عمل میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، جس سے ایجنسی کے لیے درخواستوں کو غیر معینہ مدت تک التواء میں رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
ایف ڈی اے نے ابھی تک عدالت میں اپنا باقاعدہ جواب جمع نہیں کرایا ہے۔ اس قانونی جنگ کا نتیجہ نہ صرف الٹریا کے مستقبل بلکہ امریکی تمباکو مارکیٹ کے پورے ضوابطی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
