سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز تہران کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اپنی موجودہ پالیسی نہ بدلی تو اسے مزید امریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں، لیکن ہم ان کی ہر چال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اردن میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد، بائیڈن انتظامیہ نے عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی کمزور ہے اور تہران کو قابو میں رکھنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
وائٹ ہاؤس کے لیے اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے۔ صدر بائیڈن ایک طرف امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے دباؤ میں ہیں، تو دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ سے بچنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ حملے صرف ایک طویل جوابی کارروائی کا آغاز ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے امریکی انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کا عوامی سطح پر ذکر کرنا اور مزید حملوں کی دھمکی دینا، بائیڈن انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اپنے حامیوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی "طاقت کے ذریعے امن” کی پالیسی موجودہ انتظامیہ سے زیادہ مؤثر تھی۔
دوسری جانب تہران نے امریکی حملوں کو "اسٹریٹجک غلطی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کریں گے۔ اگرچہ ایران نے اب تک براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کیا ہے، لیکن یمن کے حوثیوں سے لے کر عراق میں موجود ملیشیاؤں تک، ایران کا نیٹ ورک خطے میں امریکی مفادات کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا خطرہ کسی بھی بڑی غلط فہمی کا ہے۔ واشنگٹن میں جاری سیاسی بیان بازی اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق انتہائی سنگین ہیں۔ کیا امریکہ اپنی انٹیلی جنس اور حملوں کے ذریعے ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکے گا یا یہ کشیدگی کسی وسیع تر جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں امریکی کارروائیوں کی نوعیت سے ملے گا۔
فی الحال، بائیڈن انتظامیہ نے مزید حملوں کا عندیہ دیا ہے۔ تہران اس دباؤ کے سامنے کب تک اپنی حکمتِ عملی برقرار رکھتا ہے، یہ وہ سوال ہے جس پر پورے خطے کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
