ایپل کو لندن میں ایک بڑی قانونی مشکل کا سامنا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کمپنی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے ایپ اسٹور کے ذریعے برطانیہ کے لاکھوں صارفین سے زائد فیس وصول کی ہے۔ کمپیٹیشن اپیل ٹریبونل میں دائر کیے گئے اس مقدمے میں تقریباً 2 ارب پاؤنڈ (2.7 ارب ڈالر) کے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مقدمے کا مرکزی نقطہ ایپل کا "غیر منصفانہ” کمیشن سسٹم ہے۔ ڈیجیٹل مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے والے ڈویلپرز کے لیے ایپل کے اپنے ادائیگی کے نظام کو استعمال کرنا لازمی ہے، جس میں کمپنی 30 فیصد تک کٹوتی کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض ٹرانزیکشن فیس نہیں، بلکہ ایک ایسا ٹیکس ہے جو مسابقت کو ختم کر رہا ہے اور آئی فون صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
کنگز کالج لندن کی لیکچرار اور اس مقدمے کی نمائندہ ڈاکٹر ریچل کینٹ کا کہنا ہے کہ ایپل کا "والڈ گارڈن” استحصال پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق، "ایپل صارفین کو اپنے ایکو سسٹم میں قید رکھتا ہے اور پھر ہر خریداری کی شرائط خود طے کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو ڈویلپرز اور صارفین کو کسی حقیقی انتخاب کا موقع نہیں دیتی۔”
مقدمہ لڑنے والی قانونی ٹیم کا اندازہ ہے کہ برطانیہ کے تقریباً ایک کروڑ 96 لاکھ صارفین اس ہرجانے کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت اس دعوے کو منظور کر لیتی ہے، تو متاثرہ افراد 2015 سے اب تک ایپ اسٹور پر کی گئی اپنی خریداریوں پر معاوضہ حاصل کر سکیں گے۔
یہ ایپل کے لیے کوئی پہلا قانونی چیلنج نہیں ہے۔ ٹم کک کی زیر قیادت کمپنی کو عالمی سطح پر اینٹی ٹرسٹ (انسداد اجارہ داری) کی سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کے ‘ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ’ سے لے کر امریکہ میں جاری مقدمات تک، ریگولیٹرز اب ایپل کے اس "ایپل ٹیکس” کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایپل کا موقف رہا ہے کہ یہ پالیسیاں پلیٹ فارم کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کے لیے ضروری ہیں اور ایپ اسٹور ایک محفوظ مارکیٹ پلیس فراہم کرتا ہے۔
ایپل کے قانونی ماہرین اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ایپ اسٹور کے قیام سے لے کر اب تک ڈویلپرز کو اربوں ڈالر کمانے میں مدد دی ہے۔
ایپل کے لیے یہ مالی نقصان کافی بڑا ہے، لیکن اصل خطرہ اس کے کاروباری ماڈل کا مستقبل ہے۔ اگر برطانوی ٹریبونل یہ فیصلہ دیتا ہے کہ یہ فیس مارکیٹ میں غلبے کا غلط استعمال ہے، تو ایپل کو اپنے اس ماڈل کو تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے جس نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک کمپنی کی آمدنی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
مقدمہ اب کمپیٹیشن اپیل ٹریبونل کے پاس ہے۔ اگر فیصلہ درخواست گزاروں کے حق میں آتا ہے، تو یہ نہ صرف ایک بڑے مالی ہرجانے کا باعث بنے گا، بلکہ یہ ایپ اسٹور کے موجودہ غیر محدود کنٹرول کے دور کے خاتمے کا اشارہ بھی ہوگا۔
