جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات کے نام پر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں جاری احتجاج کے دوران انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومتی ٹیموں سے بات چیت اپنی جگہ، مگر سڑکوں پر جاری دباؤ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
بجلی کے بھاری بلوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کا یہ احتجاج اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ حکومت ایک طرف آئی ایم ایف کے سخت شرائط میں جکڑی ہوئی ہے تو دوسری طرف عوام کا غصہ سڑکوں پر امڈ آیا ہے۔
حافظ نعیم نے دھرنے کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم یہاں کوئی کھیل کھیلنے نہیں آئے، مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب تحریک کی کمر توڑنا نہیں ہو سکتا۔” ان کا موقف ہے کہ حکومت کے پاس ریلیف دینے کی گنجائش موجود ہے، مگر ترجیحات غلط ہیں۔
حکومتی وزراء کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش تو کی گئی ہے، لیکن جماعت اسلامی نے کسی بھی قسم کے خفیہ سمجھوتے سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں یا بجلی کے ٹیرف میں کمی آئی ایم ایف کے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث حکومت کے پاس لچک دکھانے کی گنجائش بہت محدود ہے۔
دھرنے کے باعث وفاقی دارالحکومت کے داخلی راستے کئی روز سے بند ہیں، جس سے شہریوں اور تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سب کے باوجود جماعت اسلامی کا کارکن پُرعزم ہے اور احتجاجی پنڈال میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ احتجاج محض بجلی کے بلوں تک محدود نہیں ہے۔ حالیہ انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد حافظ نعیم اپنی جماعت کو دوبارہ عوامی سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ معاشی مشکلات کے ستائے ہوئے مڈل کلاس طبقے کو اپنا ہمنوا بنا کر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔
حکومت اب ایک ایسے بند گلی میں کھڑی ہے جہاں اسے یا تو عوام کو ریلیف دینا ہوگا یا پھر طویل احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ حافظ نعیم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
