کراچی — سندھ اسمبلی نے صوبے کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا اور کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
یہ قرارداد ایک اپوزیشن رکن کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں سندھ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئے یونٹس کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے قرارداد کو فوراً مسترد کرتے ہوئے اسے صوبائی ہم آہنگی کے خلاف ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔
اجلاس کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب اسپیکر نے قرارداد پر طویل بحث کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان کا موقف تھا کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں موجودہ انتظامی نظام عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ احتجاجاً ایوان سے نکلتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے حلقوں کے مسائل اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر وزیر نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تقسیم کا مطالبہ دراصل مقامی حکومتوں کی ناکامیوں کو چھپانے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ایک حربہ ہے۔ ان کے مطابق، سندھ کی جغرافیائی حدود کو چھیڑنا آئینی بحران اور لسانی کشیدگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
یہ قرارداد مسترد ہونے کے بعد بھی شہری اور دیہی سندھ کے درمیان خلیج واضح دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ایم کیو ایم کا بائیکاٹ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ کراچی میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ایوان سے باہر نکل کر، یہ معاملہ اب سیاسی گلیاروں میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہری مراکز میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ارتکاز پر عوامی تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں۔ جب تک ان بنیادی انتظامی نقائص کو دور نہیں کیا جاتا، صوبے کی تقسیم کا نعرہ سیاسی میدان میں ایک متنازع اور جذباتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا۔
