ایل نینو کے ریکارڈ توڑ دور کے خاتمے کے بعد برطانیہ کا موسم ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے لیے یہ بتانا مشکل ہو گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں برطانیہ کا موسم کس کروٹ بیٹھے گا۔ اگرچہ اس موسمیاتی رجحان نے عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ کیا، لیکن اس کے کمزور پڑنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ برطانیہ میں موسم معمول پر آ جائے گا۔ درحقیقت، فضا اس وقت ایک ایسے عبوری مرحلے میں ہے جو روایتی پیش گوئیوں کو چیلنج کر رہا ہے۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ بحرالکاہل کا درجہ حرارت گر رہا ہے اور دنیا ‘لا نینا’ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ تبدیلی ‘جیٹ اسٹریم’ کو متاثر کرتی ہے، یعنی وہ بلند ہوائی کرنٹ جو یہ طے کرتا ہے کہ برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر آئے گی یا مسلسل طوفانی بارشیں۔ اصل مسئلہ صرف درجہ حرارت میں تبدیلی نہیں، بلکہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے موسمیاتی نظام میں پیدا ہونے والا عدم توازن ہے۔
عام شہریوں کے لیے اس کا براہِ راست مطلب پیش گوئیوں کی ناکامی ہے۔ زراعت اور توانائی کے شعبوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے؛ کسان مٹی میں نمی کی غیر معمولی سطح کی شکایت کر رہے ہیں، جبکہ توانائی فراہم کرنے والے ادارے ایسے موسم کے لیے پیشگی منصوبہ بندی نہیں کر پا رہے جس کا کوئی مستقل پیٹرن نہ ہو۔
ایک ماہرِ موسمیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم روایتی موسمیاتی محرکات سے علیحدگی دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے ماڈلز اس لیے ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ بحرِ اوقیانوس کی سطح کا درجہ حرارت اب بھی غیر معمولی طور پر بلند ہے، حالانکہ بحرالکاہل سرد مرحلے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔”
خطرہ کسی ایک مخصوص طوفان کا نہیں، بلکہ موسمیاتی اعتبار کی کمی ہے۔ جب جیٹ اسٹریم سست پڑتی ہے یا رکاوٹ کا شکار ہوتی ہے، تو موسمیاتی نظام برطانیہ کے اوپر جم جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سردیوں میں یا تو طویل اور شدید بارشیں دیکھنے میں آئیں یا پھر ایسی حبس زدہ گرمی جس نے شہروں کو بھٹی بنا دیا۔
اگرچہ میڈیا میں "موسمیاتی انتشار” کی باتیں عام ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ برطانیہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں تاریخی اعداد و شمار — جو موسم کی پیش گوئی کی بنیاد ہوتے ہیں — کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین اب کسی ایک طوفان پر نظر نہیں رکھے ہوئے، بلکہ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ فضا بحرِ اوقیانوس سے نمی کو کس طرح منتقل کر رہی ہے۔
آنے والے مہینے موجودہ پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کے لیے ایک امتحان ہوں گے۔ جیسے جیسے بحرالکاہل میں یہ تبدیلی مکمل ہوگی، برطانیہ شاید کسی تباہ کن ہنگامے کا شکار نہ ہو، لیکن اسے ایک ایسے موسم کا سامنا ضرور ہوگا جہاں پرانے اصول کام نہیں کر رہے۔ اب غیر متوقع صورتحال کے لیے تیار رہنا ہی برطانوی موسم کا نیا معمول بن چکا ہے۔
