اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، زمین کے درجہ حرارت کو صنعتی دور سے قبل کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا عالمی ہدف اب عملی طور پر ناقابلِ حصول دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں ہونے والے تمام تر بین الاقوامی وعدے اور کانفرنسیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت اس صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 2.6 سے 3.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا خدشہ ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا فرق نہیں، بلکہ کرہ ارض کے ایک بڑے حصے کے ناقابلِ رہائش ہونے کی جانب ایک خطرناک پیش قدمی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پریس بریفنگ کے دوران دو ٹوک الفاظ میں کہا، "ہم عالمی ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ درجہ حرارت کا ہر ایک اعشاریہ اہم ہے، اور فی الحال ہم اپنے طے کردہ ہدف کو حاصل کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔”
حقائق تلخ ہیں۔ گزشتہ برس گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ پیرس معاہدے کے تحت 1.5 ڈگری کے ہدف پر قائم رہنے کے لیے 2030 تک اخراج میں 42 فیصد کمی درکار تھی، لیکن دنیا اس کے برعکس سمت میں سفر کر رہی ہے۔
کچھ ممالک کا موقف ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی رفتار کو مزید تیز کرنا معاشی طور پر بوجھ بن سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب، شدید ہیٹ ویوز اور جنگلات میں لگنے والی آگ کی صورت میں جو قیمت دنیا ہر سال ادا کر رہی ہے، وہ گرین انرجی پر آنے والے اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں جی 20 ممالک کی جانب سے سست روی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ ممالک عالمی اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور اگرچہ انہوں نے ‘نیٹ زیرو’ کے دعوے کر رکھے ہیں، لیکن ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ٹھوس پالیسی میکانزم کا فقدان ہے۔ بورڈ رومز میں ہونے والے وعدوں اور زمین پر ہونے والے عملی اقدامات کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
ماحولیاتی ہدف کو برقرار رکھنے کے لیے وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ توانائی کی پالیسی اور صنعتی حکمت عملی میں فوری اور بڑی تبدیلی کے بغیر، یہ ہدف جلد ہی ایک تاریخی دستاویز کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔
فی الحال، دنیا وعدوں اور اعلانات کے گرد گھوم رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی تبدیلیاں اپنی تباہ کاریاں شروع کر چکی ہیں۔
