لاہور — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منگل کے روز لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔ ملزم پر انسانی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک کو چلانے کا الزام ہے جو درجنوں بے روزگار نوجوانوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ بھیجنے کا جھانسہ دیتا رہا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار ملزم محمد آصف گزشتہ چھ ماہ سے ادارے کو مطلوب تھا۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے متعدد خاندانوں نے شکایت کی تھی کہ ملزم نے اٹلی اور یونان کے قانونی ورک ویزے کا وعدہ کر کے ان سے فی کس 25 لاکھ روپے سے زائد رقم بٹوری۔
متاثرین کو یورپ پہنچانے کے بجائے ترکی یا شمالی افریقہ کے جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا، جہاں ان کے پاسپورٹ بھی چھین لیے گئے۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ "ملزم نے بے روزگار نوجوانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے انہیں یورپی شہریت کا خواب دکھایا لیکن بدلے میں موت کا سفر دیا۔”
چھاپے کے دوران ایف آئی اے نے ملزم کے قبضے سے جعلی سفری دستاویزات، ویزا اسٹیکرز اور درجنوں پاسپورٹ برآمد کیے ہیں۔ ڈیجیٹل فارنزک ٹیمیں اب ملزم کے موبائل فون کا ڈیٹا کھنگال رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ آصف اس بین الاقوامی گروہ کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے جس کی جڑیں لاہور سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے ٹرانزٹ ہب تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزارتِ داخلہ پر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بحیرہ روم میں کشتیوں کے حالیہ المناک حادثات کے بعد ایف آئی اے نے پنجاب بھر میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا ہے۔
ملزم اس وقت ایف آئی اے کے لاہور سرکل آفس کی حراست میں ہے۔ اس پر ‘انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے ایکٹ’ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مجرم ثابت ہونے پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
بیرونِ ملک پھنسے ہوئے متاثرین کے لیے یہ گرفتاری کسی فوری ریلیف سے کم ہے، تاہم ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ دفترِ خارجہ کے ساتھ مل کر ان نوجوانوں کی واپسی کے لیے قانونی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے، لیکن حکام کا دعویٰ ہے کہ اسمگلرز کے خلاف یہ آپریشن اب نہیں رکے گا۔
