وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ دفاع کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو ملک کا سب سے بڑا دفاع قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ مرکزی تقریب میں انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کا دن ہمیں ان عظیم سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی قربانیاں تبھی رائیگاں نہیں جائیں گی جب ملک معاشی طور پر مستحکم اور عوام متحد ہوں گے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو مقدم رکھنے پر زور دیا، کیونکہ ان کے نزدیک موجودہ دور کے سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ یہی ہے۔
تقریب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ "ہمارے فوجی سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں تاکہ ہم ملک کی ترقی کے لیے کام کر سکیں۔” انہوں نے کسی نئی پالیسی کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن ان کے لہجے میں داخلی انتشار کو ختم کرنے کی واضح خواہش دیکھی گئی۔
یہ دن 1965 کی جنگ میں پاک فوج کی جانب سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ماضی کے برعکس، اس بار حکومتی بیانیے میں فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ "معاشی خود انحصاری” کا تذکرہ بھی نمایاں رہا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں جب ملک کو سرحدوں پر چیلنجز کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کا یہ پیغام دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ قومی بقا صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک مستحکم معیشت اور متحد معاشرے سے جڑی ہے۔
فوجی قیادت بھی حال ہی میں یہ واضح کر چکی ہے کہ ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے داخلی محاذ پر اتحاد ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے شہداء کی یادگار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے، مگر ان کا اصل امتحان اب یہ ہے کہ وہ اس اتحاد کے نعرے کو عملی اقدامات میں کیسے بدلتے ہیں۔
یومِ دفاع کی یہ تقریبات تو ختم ہو جائیں گی، مگر عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا حکومت معاشی بحران کے خاتمے کے لیے وہ "اتحاد” پیدا کر سکے گی جس کا مطالبہ آج کے دن کیا گیا ہے۔
