لابان باجو — انڈونیشیا میں ماؤنٹ لیوٹوبی لاکی لاکی کے مسلسل پھٹنے سے خارج ہونے والی راکھ کے بادلوں نے فضائی حدود کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کے باعث کوموڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔
آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کی تہہ ہزاروں میٹر بلندی تک فضا میں پھیل چکی ہے۔ ہوا کا رخ تبدیل ہونے کے بعد یہ ملبہ فضائی راستوں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے بعد حکام نے مسافروں کی حفاظت کے پیشِ نظر ایئرپورٹ کو غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقامی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ترجمان نے مختصر بیان میں کہا کہ "مسافروں کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ راکھ کے ذرات جیٹ انجنوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ رن وے پر حدِ نگاہ تقریباً صفر ہو چکی ہے۔”
یہ صورتحال سیاحوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی ہے۔ کوموڈو نیشنل پارک، جو اپنی نایاب ڈریگن نسل کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے، تک پہنچنے کا یہ واحد بڑا راستہ ہے۔ اس وقت سینکڑوں سیاح لابان باجو کے ہوٹلوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، اور کئی افراد اپنی بین الاقوامی کنیکٹنگ فلائٹس سے محروم ہو چکے ہیں۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق، ماؤنٹ لیوٹوبی لاکی لاکی بدستور فعال ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اور آتش فشاں کے اندرونی دباؤ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ ابھی تھمنے والا نہیں ہے۔ مشرقی فلورس کے علاقے میں گزشتہ کئی روز سے جاری یہ دھماکے مقامی آبادی اور سیاحتی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کی ‘رنگ آف فائر’ پٹی پر واقع ہونے کے باعث یہاں کے ہوائی اڈوں کو ایسی قدرتی آفات کا سامنا اکثر رہتا ہے۔ ایئر لائنز اب مسافروں کو متبادل راستے دینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک ہوا کا رخ تبدیل نہیں ہوتا اور فضا سے راکھ صاف نہیں ہوتی، پروازوں کی بحالی ممکن نہیں۔
فی الحال، کوموڈو کا رن وے ویران ہے اور پورا علاقہ قدرت کے اس غیض و غضب کے تھمنے کا منتظر ہے۔
