حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 285 روپے 34 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 27 روپے 56 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے اس کی نئی قیمت 290 روپے 38 پیسے ہو گئی ہے۔ یہ اضافے فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔
قیمتوں میں اس اچانک اضافے کا براہِ راست بوجھ عام آدمی کی جیب پر پڑے گا۔ ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح 20 فیصد سے زائد ہے، اور ایندھن کے نرخوں میں اس اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید تیزی آئے گی۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ شرائط کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق، ملکی معاشی استحکام اور بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) میں اضافہ ناگزیر تھا۔
"ہمارے پاس آپشنز محدود تھے۔ معاشی اہداف کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام کو پٹڑی پر رکھنے کے لیے قیمتوں میں ردوبدل ضروری تھا،” وزارتِ خزانہ کے ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔
حکومت کا یہ موقف اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کے باوجود مقامی سطح پر اضافے نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے کرایوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ عام مسافر کو اب اپنے روزمرہ کے سفر کے لیے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔
ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کے نئے سلسلے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ حکومت کی جانب سے فی الحال کسی قسم کے ریلیف پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق چلانے کی یہ قیمت عام شہری مزید برداشت کر سکے گا، یا حکومت کو عوامی ردعمل کے پیشِ نظر کوئی متبادل راستہ نکالنا پڑے گا۔
