سترہویں صدی کے معروف مصور کیملی پیسارو کی ایک نایاب پینٹنگ، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے ایک یہودی خاندان سے چھینی تھی، اب قانونی طور پر اصل مالکان کو واپس کی جائے گی۔ نیویارک کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس فن پارے کو موجودہ مالکان کے قبضے سے نکال کر متاثرہ خاندان کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔
یہ پینٹنگ، جس کا عنوان (فصل کی کٹائی) ہے، 1943 میں پیرس کے ایک ممتاز یہودی آرٹ کلیکٹر سائمن باؤر سے زبردستی چھینی گئی تھی۔ وچی حکومت کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد باؤر کو ڈرانسی کیمپ بھیج دیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ ہولوکاسٹ سے زندہ بچ نکلے، لیکن ان کا قیمتی آرٹ کلیکشن بکھر گیا، جس میں یہ پینٹنگ بھی شامل تھی۔
کئی دہائیوں تک یہ فن پارہ مختلف گیلریوں اور نجی ہاتھوں سے گزرتا رہا، یہاں تک کہ نیویارک میں رئیل اسٹیٹ کی ایک لسٹنگ کے دوران اسے پہچانا گیا۔ پینٹنگ کے اصل ورثاء نے عدالت سے رجوع کیا اور 1943 کے اس "جبری سودے” کو چوری قرار دیا۔
موجودہ مالکان کا موقف تھا کہ انہوں نے 1990 کی دہائی میں یہ پینٹنگ قانونی نیلامی کے ذریعے خریدی تھی اور وہ اس کے تاریک ماضی سے لاعلم تھے۔ تاہم، جج جان کوئٹل نے اس دفاع کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے 2016 کے ‘ہولوکاسٹ ایکسپرپریئٹڈ آرٹ ریکوری’ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نازی دور میں ہونے والا یہ سودا رضاکارانہ نہیں بلکہ ریاستی جبر کا نتیجہ تھا۔
آرٹ کی دنیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مارکیٹ کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ آرٹ مورخ سارہ ایپسٹین نے کہا، "ثبوت صرف کاغذات کا نام نہیں، یہ ایک جرم کی تاریخ ہے۔ جب کوئی چیز جبر سے چھینی جائے تو اس کا حق کبھی بھی چور یا بعد میں خریدنے والے کو منتقل نہیں ہوتا۔”
اس فیصلے کے بعد اب بڑی گیلریوں اور نیلام گھروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ کسی بھی فن پارے کو فروخت کرنے سے پہلے اس کی تاریخ کی مکمل چھان بین کریں۔
سائمن باؤر کے خاندان کے لیے یہ فیصلہ اسی سالہ طویل جدوجہد کا اختتام ہے۔ پینٹنگ کی موجودہ مالیت 1.5 ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے، مگر ورثاء کے لیے یہ محض ایک اثاثہ نہیں، بلکہ ان کے خاندان کی کھوئی ہوئی تاریخ کا ایک ٹکڑا ہے۔ عدالت نے پینٹنگ کی منتقلی کا عمل جلد شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
