شہر کے مضافاتی صنعتی علاقے میں واقع ایک نجی میڈیکل سینٹر کے خلاف حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ان رپورٹس کے بعد کی گئی جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ہسپتال کا عملہ استعمال شدہ سرنجیں، خون آلود پٹیاں اور ایکسپائر شدہ ادویات کو تلف کرنے کے بجائے قریبی نالے میں بہا رہا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کی ٹیم نے منگل کی صبح کلینک کے عقب میں واقع ڈرینیج سسٹم کا معائنہ کیا اور وہاں سے کچھ مشکوک نمونے قبضے میں لیے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے نالے سے تعفن اٹھ رہا تھا اور پانی کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، جس کی شکایت انہوں نے کئی بار کی لیکن انتظامیہ نے اسے نظر انداز کر دیا۔
علاقہ مکینوں میں سے ایک، محمد یوسف کا کہنا ہے، "ہمیں معلوم تھا کہ یہ عام کچرا نہیں ہے۔ جب آپ کو نالی میں خون آلود روئی اور سرنجیں نظر آئیں تو آپ خود ہی سمجھ جاتے ہیں کہ خطرہ کتنا سنگین ہے۔”
کلینک کی انتظامیہ نے فی الحال باضابطہ طور پر کوئی موقف نہیں دیا ہے۔ تاہم، ادارے کے ترجمان نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ تحقیقات میں حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو کلینک کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا اور بھاری جرمانہ عائد ہوگا۔
طبی فضلے کو ضائع کرنے کے سخت قوانین موجود ہیں جن کے تحت اسے خاص بھٹیوں میں جلانا لازمی ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے بلکہ ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی پیدا کرتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یہ کلینک تنازعات میں گھرا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ سال بھی اسے طبی آلات کو محفوظ طریقے سے رکھنے میں کوتاہی برتنے پر وارننگ جاری کی گئی تھی۔
ماحولیاتی ٹیم نے نالے کے پانی کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں جن کی رپورٹ جمعہ تک متوقع ہے۔ فی الحال کلینک بدستور کھلا ہے، لیکن تفتیشی ٹیم کی موجودگی نے انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
