اسلام آباد — جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی اخراجات میں کٹوتی اور ٹیکس اصلاحات پر مبنی چھ نکاتی معاشی روڈ میپ پیش کر دیا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا دعویٰ ہے کہ بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کر کے قومی خزانے کو سالانہ 6 ٹریلین روپے سے زائد کا نقصان ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ معاشی بحران کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کے بجائے حکمران طبقے کو اپنی مراعات ختم کرنا ہوں گی۔ ان کے پلان کا مرکزی نقطہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا خاتمہ ہے۔ جماعتِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدے ملکی معیشت کے لیے ناسور بن چکے ہیں، جہاں بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود نجی کمپنیوں کو ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔
پلان کا دوسرا اہم پہلو سرکاری افسران اور وزراء کی شاہانہ مراعات میں کٹوتی ہے۔ حافظ نعیم نے سرکاری گاڑیوں، ایندھن اور دیگر غیر ضروری سہولیات پر ہونے والے اخراجات کو عوام کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو، تو حکمران طبقے کا پروٹوکول کلچر ناقابلِ قبول ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ عملی اقدامات کر کے دکھائے۔ "حکومت غریب کو بیلٹ ٹائٹ کرنے کا کہتی ہے، لیکن خود ایوانوں میں پرتعیش زندگی گزار رہی ہے۔ اگر قیادت خود سادگی اپنائے تو عوام بھی قربانی دینے کو تیار ہوں گے۔”
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اب تک بچ نکلتے ہیں۔ ان میں رئیل اسٹیٹ، ریٹیل سیکٹر اور زرعی آمدنی شامل ہیں۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بار بار منی بجٹ لانے کے بجائے اگر ٹیکس چوری کا راستہ روکا جائے تو ملکی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اگرچہ معاشی ماہرین 6 ٹریلین روپے کی بچت کے دعوے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئی پی پی معاہدوں کی منسوخی قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، تاہم جماعتِ اسلامی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان تجاویز پر کان نہ دھرے تو وہ ملک گیر احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔
بجلی کے بلوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ عوام کے لیے یہ چھ نکاتی پلان ایک متبادل معاشی بیانیہ پیش کرتا ہے۔ حکومت کے لیے اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ آیا وہ ان تجاویز کو سیاسی بیان بازی سمجھ کر مسترد کرتی ہے یا عوامی دباؤ کے پیشِ نظر اصلاحات کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔
