ویلز، 12 ستمبر 2026: ماہرینِ ماحولیات برطانیہ کے نایاب ترین آبی جانداروں میں شامل ایک ننھے چپچپے گھونگھے کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، جو اب برطانیہ میں جنگلی حالت میں صرف ایک جھیل میں پایا جاتا ہے۔
یہ گھونگھا سائنسی طور پر کہلاتا ہے اور شمالی ویلز کی ایلن ٹیگڈ جھیل، جسے بالا لیک بھی کہا جاتا ہے، میں موجود ہے۔ یہ نسل ماضی میں برطانیہ کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی تھی، لیکن اب انگلینڈ سے ختم ہوچکی ہے اور آلودگی، رہائش گاہوں میں تبدیلی اور پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جیسے خطرات کا سامنا کررہی ہے۔ منفرد شکل رکھنے والا ننھا گھونگھا
چپچپا گھونگھا انگلی کے سرے سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اس کا خول انتہائی باریک اور شفاف ہوتا ہے، جسے جیلی نما جھلی ڈھانپے رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ ایک نرم اور چپچپے جاندار کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
یہ جھلی گھونگھے کو انتہائی نازک بھی بناتی ہے، جس کے باعث اسے پکڑنا اور منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ماہرین اسے یورپ کے شدید خطرے سے دوچار میٹھے پانی کے جانداروں میں شمار کرتے ہیں۔
یہ گھونگھا صاف پانی کا محتاج ہے اور زیادہ تر پانی کے اندر موجود سطحوں پر اگنے والی کائی کو خوراک کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
ایلِن ٹیگڈ جھیل آخری پناہ گاہ
ایلِن ٹیگڈ ویلز کی سب سے بڑی قدرتی جھیل ہے اور برطانیہ میں اس گھونگھے کی واحد معلوم قدرتی رہائش گاہ ہے۔
یہ نسل 1998 میں جھیل میں دوبارہ دریافت ہوئی، اس سے پہلے کئی دہائیوں تک اس کی موجودگی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گھونگھے جھیل کے نسبتاً کم گہرے کناروں میں رہتے ہیں، جہاں پانی کی سطح میں تبدیلیاں ان کی خوراک اور پناہ گاہ کو متاثر کرسکتی ہیں۔ گھونگھے کا کم گہرے پانی پر انحصار اسے خاص طور پر خطرے سے دوچار بناتا ہے۔ اگر پانی کی سطح تیزی سے کم ہوجائے تو اس کی خوراک یعنی کائی ختم ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اگر اسے گہرے پانی میں جانے پر مجبور ہونا پڑے تو اس کے لیے خوراک حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ماہرِ ماحولیات کا گھر افزائش گاہ بن گیا
ماہرِ ماحولیات ایان ہیوز کئی سال سے اس نایاب نسل کو سمجھنے اور محفوظ کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ویلز کے علاقے سیریڈیجن میں اپنے گھر پر ٹینک اور افزائش کے انتظامات قائم کیے ہیں۔
ان کی کوششوں کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب کئی ماہ بعد ایک ٹینک میں گھونگھے کے انڈے دیکھے گئے۔ اس دریافت سے سائنسدانوں کو اس جاندار کی افزائش کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئیں، جس کے بارے میں پہلے بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔
ہیوز نے ایلِن ٹیگڈ جھیل میں گھونگھوں کے لیے چھوٹے کنکریٹ کے پناہ گاہی ڈھانچے بھی تیار کیے ہیں۔ ان کا مقصد گھونگھوں کو جھیل کی سطح کے قریب محفوظ جگہ فراہم کرنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پانی کی سطح کم ہوجائے۔
چڑیا گھروں میں محفوظ آبادیوں کا قیام
برطانیہ کے کئی چڑیا گھر اب اس نسل کی متبادل آبادی قائم کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جنہیں بعض اوقات “آرک پاپولیشنز” کہا جاتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر آلودگی، بیماری یا کسی ماحولیاتی حادثے کے باعث قدرتی آبادی متاثر ہوجائے تو یہ نسل مکمل طور پر ختم نہ ہو۔
برٹش اینڈ آئرش ایسوسی ایشن آف زوز اینڈ ایکویریمز کی نگرانی میں متعدد ادارے اس منصوبے میں شامل ہیں، جن میں:
- ڈڈلی زو اینڈ کاسل
- چیسٹر زو
- لانگ لیٹ سفاری پارک
- وِنگھم وائلڈ لائف پارک
- اسکیم برائن کنزرویشن اینڈ وائلڈ لائف پارک
شامل ہیں۔
یہ ادارے گھونگھوں کی افزائش، ان کی ضروریات کے بارے میں تحقیق اور مستقبل میں انہیں انگلینڈ کے موزوں علاقوں میں دوبارہ متعارف کرانے کے امکانات پر کام کررہے ہیں۔
آلودگی اور رہائش گاہوں کو نقصان
چپچپے گھونگھے کی تعداد میں کمی کا تعلق میٹھے پانی کے ماحول میں خرابی سے ہے۔
زرعی فضلہ، غذائی اجزا کی آلودگی اور پانی کے معیار میں تبدیلیاں ان صاف پانی کے حالات کو متاثر کرسکتی ہیں جن کی اس نسل کو ضرورت ہوتی ہے۔ رہائش گاہوں کا خاتمہ اور حملہ آور انواع بھی خوراک اور افزائش کے لیے موزوں علاقوں کو کم کرسکتی ہیں۔
چونکہ یہ گھونگھا آلودگی کے لیے انتہائی حساس ہے، اس لیے اس کی موجودگی جھیل یا دریا کے ماحولیاتی معیار کی نشاندہی بھی کرسکتی ہے۔ اس نسل کو بچانے کا مطلب وسیع تر آبی ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانا بھی ہے۔
یہ گھونگھا کیوں اہم ہے؟
اگرچہ یہ جاندار بہت چھوٹا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کا تحفظ کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔
سب سے پہلے، یہ برطانیہ کے قدرتی ورثے کا ایک منفرد حصہ ہے۔ دوسری جانب پانی کی آلودگی کے لیے اس کی حساسیت اسے میٹھے پانی کے معیار کا اہم اشارہ بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس گھونگھے کو بچانے سے ان دیگر آبی جانداروں کے مسکن بھی محفوظ ہوسکتے ہیں جو اسی صاف پانی کے ماحول پر انحصار کرتے ہیں۔
تحفظاتی اداروں کو امید ہے کہ مصنوعی افزائش، قدرتی مسکن کا تحفظ اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اس نسل کو مستقبل میں مزید علاقوں میں دوبارہ متعارف کرایا جاسکے گا۔
فی الحال اس نایاب گھونگھے کا مستقبل ایک ہی ویلز کی جھیل اور ان سائنسدانوں، چڑیا گھروں اور رضاکاروں کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے جو اسے معدوم ہونے سے بچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
