کوئٹہ میں ایک پالیسی اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس کی موجودگی میں عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں رہا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق، موجودہ صوبائی نظام میں فیصلہ سازی کا عمل مرکزیت کا شکار ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب تک انتظامی اکائیاں چھوٹی اور عوامی پہنچ میں نہیں ہوں گی، تب تک صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت لانا ایک خواب ہی رہے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ "موجودہ نظام نچلی سطح پر کارگر ثابت نہیں ہو رہا، اور شہریوں کا حکومتی ایوانوں سے فاصلہ ہی دراصل ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔”
تاہم، اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ صوبے کے فوری بحرانوں، بالخصوص امن و امان کی صورتحال اور قدرتی وسائل کے انتظام سے توجہ ہٹانے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی جب جب صوبوں کی تقسیم کا ذکر ہوا، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر شدید تحفظات نے اس بحث کو تعطل کا شکار کر دیا تھا۔
آئین کے تحت نئے صوبے کا قیام ایک پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں تمام تر سیاسی وعدوں کے باوجود یہ معاملہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ سرفراز بگٹی نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی روڈ میپ پیش نہیں کیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے یا حکومت واقعی اس پر سنجیدہ قانون سازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ فی الحال، وزیراعلیٰ کا یہ موقف ایک ایسے سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد صوبائی سیاست میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا اور انتظامی اصلاحات کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کے اتحادی اس موقف کا ساتھ دیتے ہیں یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح محض بحث تک محدود رہے گا۔
