گوما — جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا موجودہ پھیلاؤ ملک کی تاریخ کا مہلک ترین وبائی بحران بن چکا ہے، جس میں متاثرین کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ صحت کے حکام نے منگل کی رات اس سنگین پیش رفت کی تصدیق کی، جبکہ وائرس مشرقی صوبوں کے شورش زدہ علاقوں میں قابو سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس وبائی صورتحال کا سب سے تاریک پہلو عوامی اعتماد کا فقدان ہے۔ دہائیوں پر محیط خانہ جنگی نے مقامی آبادی کو سرکاری صحت کے اقدامات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب طبی ٹیمیں دیہاتوں میں پہنچتی ہیں تو انہیں تعاون کے بجائے پتھراؤ اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کشیدگی کانٹیکٹ ٹریسنگ جیسے عام طبی عمل کو ایک خطرناک سیکیورٹی آپریشن میں بدل دیتی ہے۔
ایک بین الاقوامی طبی تنظیم کے فیلڈ کوآرڈینیٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک وائرس سے لڑ رہے ہیں، لیکن ہم لوگوں کا اعتماد کھو رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسے نہیں ہیں، یہ ان خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے پیاروں میں علامات ظاہر ہونے کے باوجود انہیں ہسپتال لانے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ انہیں قرنطینہ مراکز سے خوف آتا ہے۔”
موت کی شرح بدستور تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اب تک 4,500 سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ شرح اموات 65 فیصد کے قریب ہے۔ اگرچہ ویکسین دستیاب ہے، لیکن وہ فرنٹ لائن تک پہنچنے میں بہت سست ہے۔ شمالی کیوو کے ناہموار اور ناقابل رسائی پہاڑی علاقوں نے ویکسین کی فراہمی میں ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں کہ زندگی بچانے والی خوراکیں اکثر ضرورت مندوں تک وقت پر نہیں پہنچ پاتیں۔
بین الاقوامی ڈونرز نے امداد کے لیے لاکھوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ فنڈز اکثر بیوروکریٹک سرخ فیتے میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ دریں اثنا، وائرس گنجان آباد مراکز میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ گوما اور پڑوسی ملک روانڈا کے درمیان تجارت کرنے والے افراد انجانے میں اس وائرس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں، جس سے یہ مقامی صحت کا مسئلہ ایک علاقائی سیکیورٹی خطرے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے تاحال اسے "عالمی ہنگامی صورتحال” قرار دینے سے گریز کیا ہے، کیونکہ اس اقدام سے ملنے والی امداد تو بڑھ سکتی ہے لیکن سفری پابندیوں کے خوف سے مقامی معیشت کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ فی الحال حکمت عملی صرف اتنی ہے کہ وائرس کی نشاندہی کرو، مریض کو الگ کرو اور دعا کرو کہ ویکسین کی اگلی کھیپ کسی نئے گاؤں میں وباء کے پھوٹنے سے پہلے پہنچ جائے۔
جیسے جیسے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، طبی ماہرین اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ حفاظتی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔ جب تک حکومت مقامی قبائلی عمائدین کے ساتھ مل کر عوامی اعتماد بحال نہیں کرتی، اعداد و شمار کا یہ گراف نیچے نہیں آئے گا۔
یہ وباء صرف ادویات سے ختم نہیں ہوگی؛ اس کا خاتمہ تب ممکن ہے جب لوگ یہ سمجھ لیں کہ انہیں وائرس سے زیادہ ڈاکٹروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
