ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برف جیسے ٹھنڈے پانی کے غسل (آئس باتھ) جسم میں چربی جلانے کے عمل کو تیز کر کے وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق ٹھنڈے درجہ حرارت کے سامنے آنے پر جسم اپنی حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آئس باتھ جسم میں موجود "براؤن فیٹ” (Brown Fat) کو متحرک کر سکتے ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کی چربی ہے جو توانائی ذخیرہ کرنے کے بجائے حرارت پیدا کرنے کے لیے کیلوریز جلاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براؤن فیٹ کی سرگرمی میں اضافہ میٹابولزم کو بہتر بنانے اور وزن کے انتظام میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ صرف آئس باتھ وزن کم کرنے کا مؤثر یا مکمل حل نہیں ہیں۔ مستقل جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اب بھی وزن کم کرنے کے بنیادی عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئس باتھ ان اقدامات کے ساتھ ایک اضافی معاون طریقہ ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں معجزاتی علاج سمجھنا درست نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی ٹھنڈے پانی میں اچانک داخل ہونا بعض افراد، خصوصاً دل کے مریضوں یا ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد، کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے آئس باتھ آزمانے سے پہلے طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم آئس باتھ اور وزن میں کمی کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔
