دمشق کے نواحی علاقے جرمانہ میں منگل کے روز ایک دھماکہ خیز چیز پھٹنے سے سات سالہ بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ دھماکے کی آواز سن کر مقامی افراد جائے وقوعہ پر پہنچے، تاہم بچے کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ ایک پرانے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا جو برسوں پہلے کی لڑائی کا باقی ماندہ حصہ معلوم ہوتا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دمشق کے اطراف میں اب براہِ راست لڑائی نہیں ہو رہی، لیکن رہائشی بستیوں کے قریب موجود یہ لاوارث بارودی مواد اب بھی موت کا جال بنے ہوئے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ان خدشات کو تازہ کر دیا ہے جو خانہ جنگی کے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو لاحق ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے دعووں کے باوجود، ملبے اور کھنڈرات میں چھپا بارودی مواد بچوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اکثر بچے ان دھاتی چیزوں کو کھلونا یا کباڑ سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں، جس کا نتیجہ اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ قریبی گھروں کی کھڑکیاں لرز گئیں۔ انہوں نے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ یہاں پرانا بارود موجود ہے، لیکن حکومت کی جانب سے صفائی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔”
دمشق کے ہسپتالوں کے ریکارڈ کے مطابق، اس طرح کے حادثات میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا موقف ہے کہ شام میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے فنڈز کی شدید کمی ہے، جس کے باعث رہائشی علاقے ابھی تک غیر محفوظ ہیں۔
شامی وزارتِ داخلہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان کے لیے یہ کارروائی کسی تسلی کا باعث نہیں۔ دمشق کی ان گلیوں میں جہاں جنگ کو ختم ہوئے عرصہ بیت چکا ہے، وہاں آج بھی ایک بچے کی موت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بارود کا اثر ابھی مٹا نہیں ہے۔
