ویتنام کے تاریک فارمز سے برطانوی دیہی علاقے سفوک تک کا 5,000 میل طویل سفر مکمل ہو گیا۔ دو مون بیئرز، یونا اور بوبو، اب سفوک کے ‘جمیز فارم اینڈ وائلڈ لائف پارک’ میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ منتقلی صرف ایک جگہ کی تبدیلی نہیں، بلکہ ان جانوروں کے لیے قید اور اذیت سے آزادی کا ایک نیا باب ہے۔
ایشیا کے کئی حصوں میں مون بیئرز کو ‘بائل فارمنگ’ کے لیے انتہائی تنگ پنجروں میں رکھا جاتا ہے۔ ان ریچھوں کو سالوں تک لوہے کی سلاخوں کے پیچھے قید رکھ کر ان کے جسم سے پتے کا عرق نکالا جاتا ہے، جسے روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یونا اور بوبو کے لیے سفوک کی یہ ہریالی زندگی میں پہلی بار کھلی فضا اور قدرتی ماحول کا تجربہ ہے۔
وائلڈ لائف پارک کے بانی، جمی ڈوہرٹی نے اس مشکل مشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام منتقلی نہیں تھی۔ اس کے لیے مہینوں کی منصوبہ بندی، بین الاقوامی اجازت نامے اور ریچھوں کی حفاظت کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ ٹیموں کی ضرورت پڑی۔
ڈوہرٹی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "انہیں اپنے نئے مسکن میں قدم رکھتے دیکھنا ہی اس تمام محنت کا اصل صلہ ہے۔” انہوں نے بتایا کہ ریچھ فی الحال اپنے نئے ماحول سے مانوس ہو رہے ہیں اور ان کا رویہ خوف کے بجائے تجسس پر مبنی ہے، جو کہ ایک خوش آئند علامت ہے۔
پارک انتظامیہ نے ان کے لیے ایک خصوصی ‘لوسٹ لینڈز’ ہیبی ٹیٹ تیار کیا ہے۔ یہ جگہ ان کنکریٹ کے فرشوں اور لوہے کے پنجروں سے بالکل مختلف ہے جہاں یہ ریچھ اپنے بچپن سے قید تھے۔ نئے مسکن کو پہاڑی علاقے کی طرز پر بنایا گیا ہے، جہاں چڑھنے کے لیے اونچائیاں اور خوراک تلاش کرنے کے لیے قدرتی جھاڑیاں موجود ہیں۔
یونا اور بوبو اس وقت ماہر ویٹرنری ٹیم کی 24 گھنٹے نگرانی میں ہیں۔ سالوں کی قید نے ان کی صحت کو متاثر کیا ہے، اس لیے نئے موسم اور خوراک کے مطابق ان کی جسمانی بحالی کے لیے انتہائی احتیاط برتی جا رہی ہے۔
عام شہریوں کے لیے ان ریچھوں کو دیکھنا ابھی ممکن نہیں ہوگا۔ پارک انتظامیہ نے فی الحال ان کے مسکن کو سیاحوں کے لیے بند رکھا ہے تاکہ ریچھ بغیر کسی دباؤ کے اپنے نئے ماحول میں ڈھل سکیں۔ سفوک کے پرسکون جنگل میں اب انہیں صرف پتوں کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے، جو ان کی آزادی کی پہلی آواز ہے۔
