کراچی سفاری پارک میں موجود ہتھنی مدھوبالا شدید علالت کا شکار ہے، جس کے بعد انتظامیہ اور وائلڈ لائف ماہرین کی دوڑیں لگ گئیں۔ ہتھنی گزشتہ کئی روز سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے سے قاصر ہے، جس نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
‘فور پوز’ کی ماہر ویٹرنری ٹیم ہتھنی کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ ابتدائی طبی رپورٹس کے مطابق مدھوبالا خون کے کسی مہلک انفیکشن یا پیراسائٹ کا شکار ہو سکتی ہے، تاہم حتمی تشخیص کے لیے ٹیسٹ رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
طبی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مدھوبالا کی حالت انتہائی نازک ہے۔ اگلے 48 گھنٹے فیصلہ کن ہیں، ہم اسے آرام دہ رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن اتنے طویل عرصے تک زمین پر پڑے رہنے سے اس کے جسم پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔”
کراچی سفاری پارک کی انتظامیہ کو ہتھنی کی بگڑتی ہوئی صحت پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا مؤقف ہے کہ پارک میں ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے درکار جدید طبی سہولیات اور مناسب جگہ کا فقدان ہے، جو ماضی میں بھی ان جانوروں کی صحت پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔
کے ایم سی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہتھنی کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہتھنی کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لیے اس کے احاطے میں عوامی داخلہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے تاکہ خاموشی اور سکون سے اسے ریکوری میں مدد مل سکے۔
یہ واقعہ پاکستان میں قید ہاتھیوں کی فلاح و بہبود پر ایک پرانا سوال دوبارہ اٹھا رہا ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے متنبہ کر رہے ہیں کہ کراچی کا موسم اور یہاں موجود محدود ویٹرنری سہولیات ان جانوروں کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
مدھوبالا کی زندگی اور موت کی کشمکش جاری ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا بروقت طبی امداد اسے موت کے منہ سے نکال پائے گی یا یہ سانحہ کراچی میں قید دیگر جانوروں کی قسمت پر بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔
