سفک کے ساحلی علاقوں میں سفید دم والے عقاب کے تین بچوں نے اپنی پہلی پرواز مکمل کر لی ہے۔ یہ مسلسل چوتھا سال ہے جب انگلینڈ میں معدوم ہونے والے اس پرندے نے کامیابی سے افزائشِ نسل کی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
انگلینڈ کے سب سے بڑے شکاری پرندے، جن کے پروں کا پھیلاؤ آٹھ فٹ تک ہوتا ہے، دو سو سال قبل یہاں سے مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔ ان کی واپسی کا عمل ‘آئل آف وائٹ’ سے شروع کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، ان بچوں کا اڑنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پرندے اب مقامی ماحول میں خود کو ڈھال چکے ہیں۔
اس کامیابی کے باوجود، مقامی کاشتکاروں اور لائیو سٹاک مالکان کو ہمیشہ کچھ خدشات لاحق رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بڑے پرندوں کی موجودگی سے مقامی پرندوں اور مویشیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، گزشتہ چار سالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان عقابوں کی خوراک کا بڑا حصہ مچھلیوں اور مردہ جانوروں پر مشتمل ہے، جس سے زرعی نقصان کا خدشہ کم رہا ہے۔
والدین پرندوں نے اس سال موسم کی سختیوں اور خوراک کی دستیابی کے چیلنجوں کے باوجود اپنے بچوں کی بہترین پرورش کی۔ ماہرینِ حیوانات ان کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ کس طرح انسانی آبادی کے قریب اپنے قدرتی ٹھکانے بنا رہے ہیں۔
موسمِ سرما ان نوجوان عقابوں کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ ہوگا۔ اپنی پہلی سردیوں میں خوراک کی تلاش اور انسانوں کے زیرِ اثر علاقوں میں بقا ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
سفک کے آسمانوں پر ان بچوں کی پرواز صرف ایک خبر نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول فراہم کیا جائے تو قدرت اپنی کھوئی ہوئی تاریخ کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ فی الحال، یہ پرندے اپنی آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں اور انگلینڈ کے آسمانوں پر ان کی موجودگی ایک طویل عرصے سے جاری تحفظاتی کوششوں کا کامیاب نتیجہ ہے۔
