پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ڈیجیٹل حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت سے جدید ڈیٹا ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی ہدف ان ہزاروں کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے جو اب تک رسمی معیشت کا حصہ نہیں بن سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام روایتی مینوئل آڈٹ کے نظام کو ختم کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ ماضی میں مینوئل آڈٹ کا نظام صوبے کے تیزی سے پھیلتے ہوئے سروسز سیکٹر کے ساتھ قدم ملانے میں ناکام رہا ہے۔ اب ریئل ٹائم ڈیٹا اینالٹکس کے ذریعے ریستورانوں، بیوٹی پارلرز اور نجی کلینکس جیسے شعبوں میں ہونے والے لین دین کی براہِ راست نگرانی کی جائے گی۔
یہ شراکت داری صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد ٹیکس شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی تکنیکی مہارت اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے گی جو ظاہر کی گئی آمدن اور مارکیٹ کی حقیقی سرگرمیوں کے درمیان حائل ہے۔ برسوں سے پی آر اے کو اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ ٹیکس کا بوجھ چند محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
منصوبے سے واقف ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ، "ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ڈیٹا خود بولے گا۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوششیں پرانے ریکارڈ کیپنگ کے نظام اور صوبائی و وفاقی ڈیٹا بیس کے درمیان عدم رابطہ کاری کی وجہ سے ناکام رہی ہیں۔
یہ اصلاحات ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب پنجاب کا مالیاتی خسارہ بڑھ چکا ہے۔ صوبائی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ اپنے وسائل سے آمدنی بڑھائے تاکہ ترقیاتی اہداف پورے کیے جا سکیں۔ جدید سسٹم سیلز ٹیکس گوشواروں میں تضادات کو خودکار طریقے سے پکڑ لے گا، جس سے آمدن چھپانے کی گنجائش کم ہو جائے گی۔
تاہم، ماہرین اس حوالے سے محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کارکردگی تو بڑھا سکتی ہے، لیکن اصل چیلنج نفاذ کا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی ڈیجیٹل ٹیکس کلیکشن کی کوششیں تاجروں کی مزاحمت اور فیلڈ میں عملی اقدامات کے فقدان کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتی رہی ہیں۔
پی آر اے کا منصوبہ ہے کہ اس سسٹم کا پائلٹ پراجیکٹ لاہور سے شروع کیا جائے اور رواں مالی سال کے اختتام تک اسے دیگر بڑے اضلاع تک پھیلایا جائے۔ اس ٹیکنالوجی پر مبنی اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا اتھارٹی ڈیٹا سامنے آنے کے بعد بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کرنے کا سیاسی عزم برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔
