اسلام آباد: وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید ریلیف کا انحصار بڑی حد تک عالمی آئل مارکیٹ کی صورتحال پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ پاکستانی صارفین تک بھی منتقل کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
وزیرِ پٹرولیم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے زیادہ متحرک نظام اختیار کیا ہے، جس کے تحت عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو تیزی سے مقامی قیمتوں میں شامل کیا جا سکے۔ حکومت نے پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ جائزے کا طریقہ کار بھی متعارف کرایا ہے۔
2 اکتوبر کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 392.76 روپے مقرر کی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 399.64 روپے مقرر ہوئی۔ یہ قیمتیں 5 اکتوبر تک نافذ رہیں گی۔
اس سے قبل یکم اکتوبر کے لیے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔
علی پرویز ملک اس سے قبل وضاحت کر چکے ہیں کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف خام تیل کی عالمی قیمت کو دیکھ کر طے نہیں ہوتی بلکہ عالمی سطح پر تیار شدہ پٹرول کی قیمت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی بینچ مارک، خصوصاً Platts کی قیمتیں، درآمدی اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل شامل ہوتے ہیں۔
وزیرِ پٹرولیم نے کہا کہ حکومت عام شہریوں پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے آگاہ ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے آنے کی صورت میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
دوسری جانب حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے سپلائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق علاقائی حالات کے باوجود ملک میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
یوں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی آئندہ قیمتیں عالمی ریفائنڈ فیول مارکیٹ، بین الاقوامی سپلائی صورتحال اور خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی حالات سے بدستور متاثر ہونے کا امکان ہے۔
