ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر کیا گیا میزائل حملہ خاص طور پر رہائشی علاقوں سے دور کیا گیا اور اس کا مقصد کسی طور قطر کو نشانہ بنانا نہیں تھا، جسے ایران نے ایک "دوستانہ اور برادر” ملک قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا:
"یہ کارروائی برادر ملک قطر اور اس کے معزز عوام کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران قطر کے ساتھ اپنے گرمجوش اور تاریخی تعلقات کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے کے عزم پر قائم ہے۔”
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے ایران کے ایٹمی مقامات پر بمباری کے جواب میں کیا گیا، اور اسے مکمل احتیاط کے ساتھ صرف امریکی فوجی اڈے کو ہدف بناتے ہوئے انجام دیا گیا تاکہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
عینی شاہدین نے رات کے وقت آسمان میں میزائلوں کی پرواز اور دور سے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم ابھی تک کسی شہری جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایران کی وضاحت کے باوجود، قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے:
"قطر اپنی سرزمین پر کسی بھی ایسی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو اس کی سلامتی یا شہریوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر اس معاملے پر علاقائی شراکت داروں اور عالمی اتحادیوں سے مشاورت کر رہا ہے۔
ابھی تک امریکی حکام کی جانب سے اس ایرانی حملے پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم توقع ہے کہ جلد ہی اس پر مؤقف دیا جائے گا۔ العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی تنصیب ہے جہاں 10,000 سے زائد امریکی اور اتحادی فوجی تعینات ہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر تحمل اور سفارتی راستے اختیار نہ کیے گئے تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔
