پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس نے دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو فورس کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کے پی سنٹرل پولیس آفس نے صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر اینٹی ڈرون سسٹمز اور ہینڈ ہیلڈ اینٹی ڈرون گنز کی خریداری کی سفارش پیش کی ہے۔ یہ سفارش جنوبی اضلاع اور شمالی وزیرستان جیسے حساس علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کی رپورٹس کے بعد دی گئی۔
انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ذوالفقار حامد نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "پولیس فورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے، جن میں اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اور بلٹ پروف گاڑیاں شامل ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "دہشت گردوں کی حکمت عملی میں تبدیلی آ رہی ہے، اور ہمیں بھی اس کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔ یہ اینٹی ڈرون سسٹمز ہمیں دشمن کے ڈرونز کو بروقت شناخت، ٹریک اور غیر مؤثر بنانے میں مدد دیں گے۔”
خیال رہے کہ شدت پسند گروپوں نے حالیہ برسوں میں ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے، جنہیں وہ نہ صرف جاسوسی بلکہ بعض واقعات میں حملوں کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان گروپوں نے پولیس کے نگرانی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پولیس کی جانب سے مجوزہ سسٹمز میں ریڈیو فریکوئنسی جامنگ، تھرمل سینسرز اور دیگر جدید آلات شامل ہوں گے جو دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا سکیں گے۔ یہ سسٹمز پہلے مرحلے میں جنوبی اور حساس اضلاع میں تعینات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ کے پی پولیس پہلے ہی نگرانی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے، تاہم اب وہ دفاع سے حملہ آور حکمت عملی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال اس خریداری کی منظوری یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اب ایک لگژری نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
خیبر پختونخوا جیسے حساس علاقے میں، جہاں دہشت گردی کے خطرات ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں، وہاں اس قسم کی جدید ٹیکنالوجی کی تعیناتی پولیس کو زمینی اور فضائی دونوں سطحوں پر بہتر تحفظ فراہم کرے گی۔
credit THE NEWS.Pk
