نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو “سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا”۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے قانونی معاملات سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر ہوا تھا، لیکن اس کا مقصد دونوں معاملات کا موازنہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تمام حکومتوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے سفارتی اور قانونی کوششیں کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہر ملک کے اپنے عدالتی نظام ہوتے ہیں جن کا احترام ضروری ہے، چاہے وہ پاکستان ہو یا امریکہ۔
انہوں نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح ڈاکٹر عافیہ کی سزا امریکی عدالتی نظام کے تحت ہوئی، اسی طرح عمران خان کے خلاف بھی پاکستان میں قانونی عمل کے مطابق کارروائی ہوئی۔ “جب قانونی عمل مکمل ہو جائے تو دوسروں کو مداخلت کا حق نہیں ہوتا،” انہوں نے کہا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو پیشے کے لحاظ سے نیورو سائنٹسٹ ہیں، پر 2008 میں افغانستان میں امریکی حکام پر حملے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ وہ الزامات سے انکار کرتی ہیں۔ 2010 میں امریکی عدالت نے انہیں 86 سال قید کی سزا سنائی۔
ایک روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت اس کیس میں مکمل قانونی و سفارتی تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے نہ صرف اس معاملے پر سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو خط لکھا، بلکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی تاکہ کیس پر مزید پیش رفت کی جا سکے اور ڈاکٹر فوزیہ سے مسلسل رابطے میں رہا جا سکے۔
