اسلام آباد (خصوصی نمائندہ میڈیا ہائٹ)
اسلام آباد کی عدالت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی برطرفی کے اقدام کو اگلی سماعت تک معطل کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر بحال ہو چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی طور پر رائے دی ہے کہ ان کی برطرفی قانونی جواز سے محروم تھی اور ایچ ای سی آرڈیننس 2002 کے سیکشن 6(6) کے تحت ان کے آئینی حق کی خلاف ورزی کی گئی۔
31 جولای کےعدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جو نوٹیفکیشنز ڈاکٹر ضیاء القیوم کی برطرفی کے حوالے سے جاری کیے گئے، وہ قانونی طور پر مؤثر نہیں ہیں اور اگلی سماعت تک ان کے تمام قانونی اثرات معطل تصور کیے جائیں گے۔ توہین عدالت معاملے پرعدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے طلب کیا ہے۔جن جن میں سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مظہر سعید اور دیگر شامل ہیں
باوثوق ذرائع کے مطابق، عدالتی فیصلے کے باوجود ڈاکٹر ضیاء القیوم کو تاحال عملی طور پر عہدہ سنبھالنے سے روکا گیا، جس پر قانونی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی سطح پر عدالتی احکامات کی تعمیل میں رکاوٹ ڈالی گئی یا دانستہ انتظامی تاخیر کی گئی، تو یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
عدالت کے عبوری حکم کی موجودگی میں کسی بھی قسم کی انتظامی رکاوٹ یا غیر ضروری انتظار، عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اس تناظر میں بعض حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورتِ دیگر ذمہ داران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ضیاء القیوم کی طرف سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی برطرفی بغیر قانونی جواز اور شفاف عمل کے کی گئی۔ عدالت نے ان کے مؤقف کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے فوری عبوری ریلیف فراہم کیا، جو ان کی قانونی حیثیت اور عدالتی عمل پر اعتماد کا مظہر ہے۔
اس وقت ڈاکٹر ضیاء بحال ہو چکے ہیں جبکہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد اپنی مدت مکمل کر چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال پر ماہرین تعلیم اور قانونی حلقے نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ادارہ جاتی حکمرانی قانون، شفافیت اور عدالتی فیصلوں کی مکمل پاسداری کی بنیاد پر آگے بڑھے گی۔
