تہران/ساری: ایران میں ایک خاتون پر الزام ہے کہ اس نے 22 برس کے دوران اپنے 11 شوہروں کو قتل کیا، جو ملک کی تاریخ کے بڑے سیریل قتل کے واقعات میں سے ایک ہے۔ ساری کی انقلابی عدالت میں جاری مقدمے میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ 60 سالہ کولثوم اکبری نے 2000 سے 2022 کے درمیان بزرگ مردوں کو نشانہ بنایا اور ان کے ورثے پر قبضہ کرنے کے لیے انہیں آہستہ آہستہ زہریلی ادویات پلائیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، جو ایران وائر کے ذریعے سامنے آئیں، اکبری نے شوہروں کو ذیابیطس کی ادویات، جنسی طاقت بڑھانے والی دوائیں اور بعض صورتوں میں صنعتی الکحل ملا کر زہر دیا۔ چونکہ زیادہ تر شوہر بزرگ اور بیمار تھے، ان کی اموات کو قدرتی سمجھا گیا، جس سے یہ سلسلہ دو دہائیوں تک جاری رہا۔
یہ کیس 2023 میں اس وقت سامنے آیا جب اس کے آخری شوہر عزیزاللہ بابائی کی موت کے بعد بیٹے کو شک ہوا۔ ایک خاندانی دوست نے بتایا کہ بابائی کی ایک سابقہ بیوی کولثوم تھی، جس نے اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاندان نے اسے موجودہ بیوی کے طور پر پہچانا اور حکام کو اطلاع دی۔
تفتیش کے دوران، اکبری نے مبینہ طور پر 11 قتل اور ایک اقدامِ قتل کا اعتراف کیا۔ استغاثہ کے مطابق، اس کا مقصد شوہروں کی جائیداد اور دولت پر قبضہ کرنا تھا۔
بدھ کے روز عدالت میں چار متاثرہ خاندانوں نے اسلامی قانون کے تحت اس کی سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ کیس میں 45 سے زائد مدعی شامل ہیں۔ وکیلِ صفائی نے اس کی دماغی حالت کا معائنہ کرنے کی درخواست دی، تاہم ایک مدعی نے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی واضح ارادے کی علامت ہے۔
عدالت سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنائے گی۔
