کراچی،(رپورٹ میڈیا ہائیڈ) کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر صغیر سینٹر کے قریب اتوار کی علی الصبح حادثے کے نتیجے میں بھائی بہن جاں بحق اور والد شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ایک تیز رفتار ڈمپر موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا جس پر 22 سالہ ماہ نور، 14 سالہ احمد رضا اور ان کے والد شاکر سوار تھے۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ ماہ نور اور احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ شاکر کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق ماہ نور کی شادی آئندہ ماہ طے تھی جبکہ احمد نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا اور والد کے ساتھ گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر رہا تھا۔
حادثے کے بعد مشتعل علاقہ مکین موقع پر جمع ہوگئے، ڈمپر ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کم از کم سات ڈمپر گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ فائربریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جبکہ پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 10 سے 14 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود نے ڈمپرز کو آگ لگانے کے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سپر ہائی وے کے دونوں ٹریک بلاک کر دیے، جس کے باعث سہراب گوٹھ سے نپا چورنگی جانے والے شہری شدید ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ بعد ازاں حکومتی نمائندوں اور ڈمپر ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں احتجاج ختم کرنے اور آگ لگانے کے ذمہ دار ملزمان کی گرفتاری پر اتفاق کیا گیا۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے حادثے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ڈمپر سے کچلے جانے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں، ”کچھ لوگ گٹر میں گرنے سے بچ جاتے ہیں مگر ڈمپر سے جان گنوا بیٹھتے ہیں ”۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر تنقید کی اور شہری علاقوں میں بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندی کا مطالبہ کیا۔
کراچی کے شہریوں نے جاں بحق بہن بھائی کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس متاثرہ خاندان کی تاحیات مالی مدد کرے کیونکہ وہ اپنے دونوں بچوں سے محروم ہوگیا ہے اور والد بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی دکھ کا اظہار کیا، زخمی والد کی صحت یابی کے لیے دعا کی اور ٹریفک پولیس کو ہدایت دی کہ ڈمپر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ٹریفک پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں بھاری گاڑیوں کے حادثات میں 500 سے زائد افراد جاں بحق اور 4800 سے زائد زخمی ہوئے، جو شہر کے لیے ایک خطرناک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور راشد منہاس روڈ اور سپر ہائی وے پر ٹریفک ڈائیورشن اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔
شادی کے خواب چکناچور: کراچی میں بھائی بہن ڈمپر حادثے میں جاں بحق، احتجاجی ہنگامہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
