کینیڈا کی مکیسٹر یونیورسٹی کے محققین نے ایک نیا نایاب خون جمنے کا مرض دریافت کیا ہے۔ یہ تحقیق نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔
اس بیماری کا نام monoclonal gammopathy of thrombotic significance ہے۔ یہ اس وقت دریافت ہوئی جب کینیڈا میں کچھ مریضوں کو خون جمنے کا مسئلہ ہوا، حالانکہ وہ صحیح مقدار میں خون پتلا کرنے والی دوائیں لے رہے تھے۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان مریضوں میں ایسے اینٹی باڈیز پائے گئے جو کورونا ویکسین سے جڑے نایاب خون جمنے کے کیسز سے ملتے جلتے تھے، لیکن مریضوں نے ایسی ویکسین نہیں لگوائی تھی۔
کچھ مریض خاص علاج جیسے intravenous immunoglobulin، ibrutinib اور plasma cell–targeted myeloma therapy سے صحت یاب ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت ان کیسز میں خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں عام خون پتلا کرنے والی دوائیں اثر نہ کریں اور وجہ سمجھنا مشکل ہو۔ اب ڈاکٹر اس بیماری کو پہچان کر بہتر علاج کر سکتے ہیں۔
