واشنگٹن/ماسکو/کیف — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یقین ہے روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان ان کی الاسکا میں ہونے والی اہم ملاقات سے ایک دن پہلے سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پائیدار امن معاہدے کے لیے ایک دوسرا اجلاس بھی ضروری ہوگا، جس میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور ممکنہ طور پر کچھ یورپی رہنما بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا:
"میرا خیال ہے صدر پوتن امن قائم کریں گے، صدر زیلنسکی بھی امن قائم کریں گے، دیکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ چل پاتے ہیں یا نہیں۔”
ٹرمپ نے فوری جنگ بندی کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس "شطرنج کے کھیل” کی طرح ہے اور اندازہ لگایا کہ اس کے کامیاب ہونے کے امکانات صرف 25 فیصد ہیں۔
پوتن کا وسیع سکیورٹی مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار
ماسکو میں پوتن نے کہا کہ امریکہ "پرامید اور مخلص کوششیں” کر رہا ہے تاکہ لڑائی کو روکا جا سکے اور تمام فریقین کے لیے قابل قبول معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سمیت یورپ بھر کی سکیورٹی اور روس-امریکہ اقتصادی تعاون بھی ایجنڈے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کریملن کے ایک مشیر نے کہا کہ ملاقات میں دو طرفہ تجارت کے "بڑے غیر استعمال شدہ امکانات” پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ تاہم یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو یوکرین سے توجہ ہٹانے کے لیے دیگر معاملات پر پیش رفت کی پیشکش کر سکتا ہے۔
کیف اور یورپ میں خدشات
یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی کسی ایسے معاہدے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو روس کے زیرِ قبضہ تقریباً 20 فیصد یوکرینی علاقے پر اس کا کنٹرول مضبوط کر دے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا معاہدہ ماسکو کو مزید جارحیت پر اُکسائے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ کال میں یوکرین کے لیے سکیورٹی گارنٹی دینے پر آمادگی ظاہر کی، مگر وہ نہیں چاہتے کہ نیٹو اس کا براہِ راست حصہ بنے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر پوتن امن پر رضامند نہ ہوئے تو انہیں "سنگین نتائج” اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک نازک مرحلہ
یہ اجلاس جون 2021 کے بعد پہلی بار امریکی اور روسی صدور کی آمنے سامنے ملاقات ہوگی، ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ روس کا مؤقف بدستور وہی ہے جو پوتن نے جون 2024 میں پیش کیا تھا۔
