پشاور: (اسٹاف رپورٹر)
خیبرپختونخوا حکومت نے حالیہ دنوں صوبے میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم وفاقی وزارت ماحولیات، اسپارکو اور پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین پر مشتمل ہوگی جو بونیر اور صوابی سمیت سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دیگر علاقوں سے موسمیاتی موازنہ کرے گی۔ ٹیم نہ صرف حالیہ بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے اسباب تلاش کرے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے رجحان کو سمجھنے کے لیے گزشتہ 20 برسوں کے موسمیاتی ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم اپنی رپورٹ میں سیلابی تباہ کاریوں کی بنیادی وجوہات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات سے متاثرہ آبادیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کرے گی۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے پیٹرن تیزی سے بدل رہے ہیں، اور ہوا میں نمی کے بڑھتے تناسب کے سبب کلاؤڈ برسٹ جیسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں بونیر اور قریبی اضلاع میں شدید سیلابی ریلے آئے جن سے قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا۔
