کراچی، 25 اگست 2025 — انسداد دہشتگردی کی عدالت (ATC) نے چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فاران غنی، جو سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی ہیں، کو سرکاری ملازم پر مبینہ حملے کے مقدمے میں 28 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ مقدمہ فیروزآباد تھانے میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر قائم کیا گیا، جس میں سرکاری ملازم حافظ سہیل نے الزام لگایا کہ 22 اگست کو شارع فیصل کے قریب فائبر کیبل کے کام کی نگرانی کے دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر میں فاران غنی اور ان کے پانچ ساتھیوں پر اقدام قتل اور دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے ملزمان کو کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا، جہاں پراسیکیوشن نے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ دوران سماعت عدالت نے کیس میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق پر سوال اٹھایا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیس کی موجودگی کے باوجود سرکاری ملازم پر حملہ کیا۔ تاہم فاران غنی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض وہاں سے گزر رہے تھے اور بطور چیئرمین انہوں نے غیر قانونی سرگرمی پر سوال اٹھایا۔
"میں نے صرف این او سی دکھانے کو کہا۔ جب وہ نہ دکھا سکے تو میں نے کام روکنے کو کہا۔ میں نے کسی پر حملہ نہیں کیا،” فاران غنی نے عدالت کو بتایا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد 28 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کو آئندہ سماعت پرپیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔
