راولپنڈی — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کو ’’حتمی اور ناقابلِ واپسی‘‘ قرار دیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے صحافیوں کو بتایا کہ عمران خان نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ اور کمیٹیوں سے استعفوں کی مکمل تائید کی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مستعفی اراکین سرکاری گاڑیاں اور ڈرائیور بھی واپس کریں۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب عدالتوں نے مئی 9 واقعات سے متعلق مقدمات میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کو نااہل قرار دیا ہے۔
گوہر علی خان نے بتایا کہ عمران خان نے سیلاب متاثرین کی مدد پر زور دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسداد دہشتگردی حکمت عملی کی طرز پر سیلاب ایمرجنسی کا قومی ایکشن پلان بنایا جائے۔ انہوں نے ڈیمز اور نہروں پر اتفاقِ رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے گوہر نے کہا کہ عمران خان نے مذاکرات کو ضروری قرار دیا، تاہم اس وقت حکومت سے کوئی بات چیت جاری نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شیر افضل مروت پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو تنہا کرنے، پارٹی رہنماؤں کو نااہل کرنے اور پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
