ایشیا کپ ٹرافی کی تقریب رونمائی ایک غیر متوقع تنازعے کا باعث بن گئی، جب بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادیو کو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور پاکستان کے وفاقی وزیر محسن نقوی سے مصافحہ کرتے ہوئے کیمروں نے محفوظ کیا۔
یہ لمحہ بظاہر شائستگی کا معمول تھا، مگر سرحد کے اس پار بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے ہدفِ تنقید بنا ڈالا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یادیو کے اس عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جب کہ کچھ حلقوں نے اسے "غیر ضروری قربت” سے تعبیر کیا ہے۔
بھارت میں ردِعمل کی شدت کی ایک بڑی وجہ محسن نقوی کا سیاسی پس منظر ہے۔ نقوی پاکستان کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے حالیہ برسوں میں کئی بار بھارت پر سخت تنقید کر چکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک مختصر مسلح جھڑپ کے دوران بھی انہوں نے بھارت پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔
تقریب میں شریک دیگر کھلاڑیوں اور حکام کے درمیان مصافحہ اور رسمی گفتگو کو معمول کی کارروائی سمجھا گیا، تاہم بھارتی کپتان اور نقوی کے مصافحے کو سوشل میڈیا پر ایک "سیاسی رنگ” دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے، لیکن بھارت میں کرکٹ اکثر سفارتی اور سیاسی مباحث کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لمحے کی شائستگی بھی اب بڑے تنازعے میں بدل گئی ہے۔
