وارسا: پولینڈ نے بدھ کی صبح یوکرین پر بڑے روسی فضائی حملے کے دوران اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ڈرون مار گرائے، جسے حکام نے نیٹو رکن ملک کے خلاف ایک خطرناک جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔
پولینڈ کے وزیرِاعظم ڈونالڈ ٹسک نے تصدیق کی کہ پولش اور نیٹو کی فضائی دفاعی فورسز نے ڈرونز کو روکنے کے لیے ہنگامی کارروائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُٹے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صبح آٹھ بجے ہنگامی کابینہ اجلاس طلب کیا۔ فوج نے پڈلاشکی، مژوویکے اور لوبلن کے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔
فوج کے مطابق "کچھ ڈرونز جو ہماری فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے، مار گرائے گئے ہیں۔” ریڈار پر دس سے زائد اجسام کی نشاندہی ہوئی جبکہ سرچ ٹیمیں ملبے کی تلاش میں مصروف ہیں۔ دارالحکومت وارسا کا چوپین ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کردیا گیا، جبکہ تین دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر ہوئے۔ پروازوں کو کٹوویتسے، وروتسواف اور پوزنان منتقل کر دیا گیا۔
یہ خلاف ورزی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین کے بیشتر حصے، بشمول پولینڈ کی سرحد کے قریب مغربی علاقے، رات بھر فضائی حملوں کے سائرن کی زد میں رہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔
امریکا اور نیٹو کا ردعمل
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ واشنگٹن میں اراکینِ کانگریس نے ماسکو پر شدید تنقید کی۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن "نیٹو کے عزم کو آزما رہے ہیں”، جبکہ ریپبلکن رکنِ کانگریس جو ولسن نے ڈرون حملے کو "جنگی اقدام” قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا۔
ٹرمپ، جنہوں نے اگست میں پوٹن کی میزبانی کی تھی، نے حالیہ دنوں اشارہ دیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ممکنہ طور پر پابندیوں کے "دوسرے مرحلے” پر غور کر رہی ہے۔ اس دوران، یورپی یونین کے نمائندے واشنگٹن میں امریکا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ پابندیوں کے پیکج پر کام کر رہے ہیں، جو ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے بعد پہلا اقدام ہوسکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
یہ پہلا موقع ہے کہ پولینڈ نے براہِ راست دشمن ڈرونز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم 2022 میں ایک بھٹکا ہوا یوکرینی میزائل دو افراد کی ہلاکت کا سبب بننے کے بعد سے ملک ہائی الرٹ پر ہے۔
کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر پولینڈ نے اعلان کیا کہ وہ جمعرات کی رات سے بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد بند کرے گا، جب کہ روس اور بیلاروس مشترکہ "زاپاد” فوجی مشقیں شروع کرنے والے ہیں۔ پڑوسی ملک لیتھوانیا نے بھی اپنی سرحدی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکا کی یورپ میں سابق فوجی کمانڈ کے سربراہ بین ہوجز نے کہا کہ یہ دراندازیاں "جان بوجھ کر نیٹو کی تیاریوں کو آزمانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔” ان کے مطابق "ہمیں ہر بار مؤثر جواب دینے کے قابل ہونا چاہیے۔
