اسلام آباد: پاکستان نے جمعہ کے روز اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے قطر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متنازعہ بیانات کو یکسر مسترد کر دیا، جن میں پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑا گیا تھا۔
مسلم اتحاد کی اپیل
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اسرائیلی حملے کو ’’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ اقدام خطے کے امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک قطر کے ساتھ ’’کندھے سے کندھا ملا کر‘‘ کھڑا ہے۔
خان نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی ’’جارحیت اور اشتعال انگیزی‘‘ کے خلاف صف آرا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے تحفظ کے لیے اتحاد ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان رہنماؤں سے براہِ راست بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا جو ’’نسل کشی‘‘ کے ذمہ دار ہیں، تاہم اگر ضرورت پڑی تو ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم یکجہتی ایسے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
نیتن یاہو کے بیانات مسترد
دفتر خارجہ نے نیتن یاہو کے اُس ویڈیو بیان کو بھی رد کر دیا جس میں انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کا موازنہ 2011 میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن سے کیا تھا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو تنقید کے بجائے سراہا جانا چاہیے اور قطر سمیت دیگر ممالک کو مزید کارروائی کی دھمکی بھی دی۔
پاکستان نے ان بیانات کو ’’کسی توجہ کے قابل نہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی لب و لہجہ خطے میں انسانی ہمدردی اور سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
برطانیہ سے تعلقات پر وضاحت
علیحدہ بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے اُن خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کی امیگریشن پالیسیوں میں پاکستان کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں، اور پاکستان و برطانیہ مشترکہ چیلنجز پر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ وضاحت اُس وقت سامنے آئی جب برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایسے ممالک کے ویزے محدود کیے جا سکتے ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے میں تعاون نہیں کرتے۔ اس فہرست میں پہلے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نائیجیریا، ایران، عراق اور گیمبیا شامل رہے ہیں۔
