کابل میں ہفتے کے روز سینئر امریکی حکام نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تاکہ افغانستان میں قید امریکی شہریوں کی رہائی پر بات کی جا سکے۔ تاہم واشنگٹن میں طالبان کی انسانی حقوق اور یرغمالیوں کے حوالے سے سست روی پر مایوسی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث تعلقات بہتر بنانے یا اقتصادی تعاون کے امکانات مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
امریکی وفد میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یرغمالیوں کے امور کے لیے خصوصی ایلچی رہنے والے ایڈم بوہلر اور طالبان کے ساتھ 2021 میں امن مذاکرات کی قیادت کرنے والے زلمی خلیل زاد شامل تھے۔ وفد نے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی۔
افغان وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا، خاص طور پر ایک دوسرے کے ممالک میں قید شہریوں سے متعلق۔ لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک امریکی ذریعے کے مطابق طالبان کی جانب سے یرغمالیوں اور انسانی حقوق کے وعدوں میں تاخیر، معدنیات کے شعبے میں تعاون اور تعلقات کی بہتری میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
تنازعہ کی اصل وجہ محمود حبیبی کا معاملہ ہے، جو ایک امریکی شہری ہیں اور تین سال قبل کابل میں لاپتہ ہوئے تھے۔ واشنگٹن انہیں "غیر قانونی طور پر قید” قرار دیتا ہے اور ان کی رہائی کو تعلقات میں بہتری کی شرط سمجھتا ہے، تاہم طالبان ان کے زیرِ حراست ہونے کی تردید کرتے ہیں اور گزشتہ برس امریکہ کی جانب سے حبیبی کے بدلے گوانتانامو بے میں قید افغان شہری محمد رحیم الا فغانی کی رہائی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔
ملا برادر نے ملاقات کے دوران افغانستان میں نایاب معدنیات میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے اور واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ پابندیاں ختم کرے اور "محاذ آرائی کے بجائے تعلقات قائم کرے” تاکہ افغانستان کی تعمیرِ نو میں مدد مل سکے۔
یرغمالیوں کی رہائی ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی سال انہوں نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکہ ایسے ممالک کو "غیر قانونی طور پر قیدی رکھنے والے” قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ مارچ میں ایڈم بوہلر نے طالبان کی قید سے ایک امریکی سیاح، جارج گلیزمان، کو رہائی دلائی تھی جبکہ جنوری میں امریکہ نے دو امریکی شہریوں کے بدلے ایک افغان شہری کو رہا کیا تھا جو منشیات اور دہشت گردی کے الزامات میں سزا کاٹ رہا تھا۔
ان اقدامات کے باوجود امریکہ نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک انسانی حقوق اور قیدیوں کے معاملے پر بامعنی پیش رفت نہیں ہوتی، معدنیات کی تجارت یا وسیع تر تعلقات میں کسی بڑی کامیابی کے امکانات بہت محدود رہیں گے۔
