ابوظہبی کے محکمہ تعلیم و علم (ADEK) نے ایک تازہ ترین طلبہ کے رویے کی پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد امارت بھر کے اسکولوں میں احترام، ذمہ داری اور مثبت طرزِ عمل کو فروغ دینا ہے۔
نئی نظرثانی شدہ پالیسی میں طلبہ کی بدتمیزی یا غلط رویے سے نمٹنے کے لیے ایک واضح اور یکساں نظام فراہم کیا گیا ہے، جس میں 40 اقسام کی خلاف ورزیوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، 11 قسم کی تادیبی سزاؤں کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ 10 اقسام کی سزاؤں پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ انصاف اور وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔
ADEK کے مطابق، اس پالیسی میں سزا کے بجائے رہنمائی اور ابتدائی مداخلت پر زور دیا گیا ہے۔ اسکولوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کے غلط رویے کی بنیادی وجوہات کو سمجھیں اور والدین کو اصلاحی عمل میں شامل کریں۔
خلاف ورزیاں معمولی نوعیت کی تاخیر یا یونیفارم سے متعلق مسائل سے لے کر ہتھیاروں، سائبر جرائم، یا منشیات سے متعلق سنگین معاملات تک محیط ہیں۔ تادیبی اقدامات میں انتباہ، مشاورت، اور سماجی خدمت شامل ہیں، جبکہ اخراج (expulsion) صرف سخت شرائط کے تحت ہی ممکن ہے۔
نئی پالیسی کے تحت اینٹی بُلنگ (دھونس جمانے) کی جامع حکمتِ عملی نافذ کی گئی ہے، جسمانی یا نفسیاتی سزاؤں پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے، اور اساتذہ کے لیے تربیت لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ تمام اقدامات عمر کے لحاظ سے موزوں اور اصلاح پر مبنی ہوں۔
اس نئے فریم ورک کے نفاذ کے ذریعے، ADEK کا مقصد محفوظ، معاون اور اقدار پر مبنی تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہے، تاکہ ابوظہبی کے اسکولوں میں نظم و ضبط منصفانہ، شفاف اور تعلیمی بنیادوں پر قائم رہے۔
