اکشے کھنہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ چاہیں تو صرف ایک سین سے پوری فلم کا مرکز بنتے دیر نہیں لگاتے۔ دھُرندھر میں ان کا ’رحمان ڈاکو‘ کے طور پر پہلا ظہور انٹرنیٹ پر طوفان کی طرح پھیل گیا ہے، اور یہ وہی لمحہ ہے جسے لوگ بار بار دیکھ رہے ہیں، شیئر کر رہے ہیں، اور اپنی ہی اسٹائل میں دوبارہ بنا رہے ہیں۔
اصل میں، یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ حیرانی ہوتی ہے۔ بحرینی ریپر فلیپرچی کے گانے FA9LA پر اکشے کھنہ کا دھیمے قدموں سے، مگر بے حد خطرناک انداز میں اسکرین پر داخل ہونا — بس یہی چند سیکنڈ کافی تھے کہ سوشل میڈیا دھماکے سے بھر جائے۔
چاہے ٹوئٹر ہو، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک… ہر جگہ اسی انٹری کے کلپس، میمز اور ری ایکشن ویڈیوز دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی مداح تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ فلم کے بڑے اداکاروں کے باوجود “اصل شو اس نے چُرا لیا۔”
مداحوں کے تبصرے بھی کمال ہیں —
“آئیکونک”،
“ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دی”،
“ولن اتنا اسٹائلش ہو سکتا ہے؟”
گویا ہر شخص کے پاس اس انٹری کی تعریف کے لیے اپنا جملہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹری میں جو چھوٹا سا ڈانس موومنٹ ہے، وہ اسکرپٹ میں تھا ہی نہیں۔ رپورٹس کے مطابق اکشے کھنہ نے یہ لمحہ وہیں سیٹ پر خود ہی بنا لیا، اور بس… وہی اسٹپ سوشل میڈیا پر نیا ٹرینڈ بن گیا۔ ہر دوسرا صارف اسی کو دوبارہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے — کچھ نے خوب نبھایا، اور کچھ نے صرف کوشش ہی کی۔
ادبی اور فلمی حلقوں میں بھی کھنہ کی کارکردگی پر خوب بات ہو رہی ہے۔ ایک معروف فلم ساز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کھنہ اس کردار پر “آسکر کے لائق پرفارمنس” دے گئے ہیں۔ شاید بات مبالغہ لگے، مگر جس نے وہ سین دیکھا ہے، وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ تعریف کیوں کی جا رہی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ رحمان ڈاکو کا کردار محض فلمی ولن نہیں — یہ ہلکے انداز میں حقیقت سے جڑا ہوا ہے، جس نے کردار میں ایک اور گہرائی اور سُنسان سی دہشت بڑھا دی ہے۔ کھنہ نے اس کو اوورایکٹنگ سے نہیں، بلکہ خاموش، پُراسرار اور بےحد خطرناک موجودگی سے نبھایا ہے — وہی خاموشی جس سے ناظر کچھ دیر تک باہر نہیں آ پاتا۔
ستاروں سے بھری اس فلم میں، چند لمحوں کی انٹری نے جس طرح اکشے کھنہ کو ہفتے کا سب سے بڑا آن لائن موضوع بنا دیا ہے، وہ خود ایک الگ کہانی ہے۔ اور لگتا نہیں کہ یہ شور تھمنے والا ہے — دھُرندھر ابھی سینما میں چل رہی ہے، اور رحمان ڈاکو کی دھوم ابھی کچھ دن اور جاری رہے گی۔
