ہالی ووڈ میں ایک بڑے اور غیر متوقع موڑ پر پیرا ماؤنٹ نے 74 ارب ڈالر مالیت کی دشمنانہ بولی لگا دی ہے تاکہ نیٹ فلکس کی جانب سے وارٹنر بروز ڈسکوری (WBD) کے مجوزہ حصول کو روکا جا سکے — وہی معاہدہ جو چند دن پہلے ہی دنیا بھر کی شہ سرخیوں کا حصہ بنا تھا۔
پیرا ماؤنٹ نے 30 ڈالر فی شیئر نقد کی پیشکش براہِ راست وارٹنر بروز کے شیئر ہولڈرز کو بھیجی، یہ کہتے ہوئے کہ اب وہ مزید انتظار نہیں کر سکتا کیونکہ کمپنی سمجھتی ہے کہ WBD کا بورڈ نیٹ فلکس کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ اس اقدام نے صاف ظاہر کر دیا ہے کہ پیرا ماؤنٹ کسی بھی قیمت پر وارٹنر کا وسیع اور تاریخی کنٹینٹ لائبریری نیٹ فلکس کے ہاتھ جانے نہیں دینا چاہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹ فلکس پہلے ہی وارٹنر بروز خریدنے کے لیے تقریباً 72 ارب ڈالر کی ایکویٹی ویلیو — اور مجموعی طور پر 82.7 ارب ڈالر انٹرپرائز ویلیو — کے معاہدے کا اعلان کر چکا ہے۔ یہ سودا ہالی ووڈ کے لیے تاریخی ہوتا، کیونکہ پہلی بار کوئی اسٹریمنگ پلیٹ فارم کسی صدی پرانی فلم اسٹوڈیو کو اپنے کنٹرول میں لیتا۔
مگر پیرا ماؤنٹ کا کارڈ زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بولی مکمل طور پر کیش پر مشتمل ہے، یعنی شیئر ہولڈرز کو اسٹاک کی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور اس میں وہ کیبل نیٹ ورکس بھی شامل ہیں جنہیں نیٹ فلکس کے معاہدے سے باہر رکھا گیا تھا۔ سیدھی بات یہ ہے: شیئر ہولڈرز کو زیادہ رقم، کم الجھنیں۔
اس تصادم نے اب سینگ حکومتوں اور ریگولیٹرز کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ چاہے نیٹ فلکس وارٹنر بروز پر کنٹرول حاصل کرے یا پیرا ماؤنٹ، دونوں صورتوں میں میڈیا مارکیٹ میں بڑی حد تک ارتکاز پیدا ہوگا — اور یہ وہ چیز ہے جس پر امریکی حکام پہلے ہی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب، پیرا ماؤنٹ کی جانب سے WBD بورڈ پر “چٹنگ” کا الزام لگانے سے کہانی مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق وارٹنر بروز مالی دباؤ، بڑھتے ہوئے قرض اور کمزور کیبل ریونیو کی وجہ سے ایک ایسے مقام پر ہے جہاں کوئی بڑی خریداری واقعی کمپنی کے لیے ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔
اب تمام نظریں وارٹنر بروز کے شیئر ہولڈرز پر ٹکی ہوئی ہیں۔ پیرا ماؤنٹ زیادہ رقم دے رہا ہے… جبکہ نیٹ فلکس کا سودا مستقبل کی اسٹریمنگ دنیا کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی — اور ہالی ووڈ اسے اسی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے جیسے کوئی سنسنی خیز سیزن فائنل۔
