دسمبر 16، 2025
ویب ڈیسک
آسٹریا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر مسلم لڑکیوں کے لیے حجاب پر پابندی کا نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ یہ قانون اس وقت لایا گیا جب پہلے ایسا ہی ایک قانون امتیازی قرار دے کر آئینی عدالت نے ختم کر دیا تھا۔
نئے قانون کے تحت اسلامی روایات کے مطابق سر ڈھانپنے والے اسکارف کی اجازت نہیں ہوگی، اور خلاف ورزی کی صورت میں 150 سے 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ عدالتی جانچ میں برقرار رہے۔
یہ قانون حکومتی اتحاد نے پیش کیا، جس کی حمایت دائیں بازو کی فریڈم پارٹی نے بھی کی، جبکہ گرین پارٹی واحد جماعت تھی جس نے اس کی مخالفت کی۔ انٹیگریشن وزیر کلاڈیا پلاکولم نے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کے لیے حجاب “جبر کی علامت” ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ مزید بڑھے گا۔
