کراچی کے ایک شاپنگ مال میں سینئر اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ موجود تھے جب ایک شخص نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ وہ موبائل کیمرہ آن کیے بار بار یہ الزام لگاتا رہا کہ خانزادہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف رپورٹنگ کی ہے۔ شاہزیب خاموش رہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور صرف اپنے خاندان کو لے کر آگے بڑھتے رہے۔
ویڈیو چند ہی لمحوں میں سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ اور لوگ جلد ہی سوال کرنے لگے کہ اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر اس طرح کسی کو خاندان کے سامنے ہراساں کرنا آخر کب تک برداشت کیا جائے گا؟
اداکار منیب بٹ نے اس واقعے کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی صحافی آپ کی پسند کا بیانیہ نہیں چلاتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سرِعام تذلیل کا نشانہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف کی آڑ میں بدتمیزی کو جائز نہیں کہا جا سکتا۔
گلوکار جواد احمد نے بھی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر کسی کو بے عزت کرنا، اس کا پیچھا کرنا یا اس کے اہلِ خانہ کو خوفزدہ کرنا اخلاقی حدود سے باہر ہے۔ ان کے مطابق معاشرے میں عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کو اپنی بات منوانے کے لیے ہراسانی بھی معمول لگنے لگی ہے۔
اس واقعے کی وجہ بننے والا تنازعہ ایک پرانا ویڈیو کلپ تھا جس میں شاہزیب خانزادہ نے بشریٰ بی بی کے عدت کیس کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ وہی کلپ گزشتہ دنوں دوبارہ وائرل ہوا اور اسی کا حوالہ دیتے ہوئے اس شخص نے مال میں انہیں روکا اور طنزیہ جملے کہے۔
صحافتی حلقوں نے متفقہ طور پر اس رویے کی مذمت کی۔ کئی اینکرز نے کہا کہ یہ معاملہ تنقید کا نہیں بلکہ واضح ہراسانی کا ہے۔ کچھ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خانزادہ نے پورے واقعے میں ایک لفظ تک نہیں بولا، جو ان کے تحمل کی علامت ہے، کمزوری کی نہیں۔
چند سیاسی چہروں نے اس رویے کو غلط کہا، مگر کچھ نے اسے میڈیا پر "احتجاج” قرار دے کر جواز دینے کی کوشش بھی کی۔ یہی تقسیم اب پاکستانی سیاست اور معاشرت میں گہرے تنازعے کی عکاسی کرتی ہے۔
اصل مسئلہ پھر وہی ہے: اگر ایک معروف صحافی کو عوامی جگہ پر اس طرح ہراساں کیا جا سکتا ہے تو عام لوگ کس تحفظ کی امید رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا یہ رویہ اب معمول بنتا جا رہا ہے؟
شاہزیب خانزادہ نے واقعے پر کوئی تفصیلی بیان نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ ٹھیک ہیں، مگر اہلِ خانہ کے سامنے اس طرح کی صورتحال یقیناً باعث تکلیف تھی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستانی میڈیا پر دباؤ صرف اسکرین تک محدود نہیں رہا۔ اب صحافی اپنی نجی زندگی میں بھی سیاسی غصے کا سامنا کرتے ہیں۔ اور یہ رجحان کتنی دور جائے گا، اس کا جواب کوئی نہیں جانتا۔
