کراچی میں ایک ایسی خبر نے دل ہلا کر رکھ دیا ہے جسے سن کر سانس اٹک سی جاتی ہے۔
صرف تین سال کا معصوم ابراہیم — ایک کھلے مینہول میں گر گیا، اور پھر گھر واپس نہیں لوٹا۔
پورا شہر سوگوار ہے، اور اسی دکھ میں پاکستان کی دو بڑی اداکارائیں ماہرہ خان اور سجل علی بھی کھل کر اپنا درد بیان کر رہی ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
گواہوں کے مطابق بچہ اپنے والدین کے ساتھ نرسری کے قریب نیپا چورنگی پر ایک دکان کے سامنے چل رہا تھا۔ چھوٹے بچے تیز ہوتے ہیں — لمحے بھر میں آگے نکل جاتے ہیں — اور بس اسی پل میں وہ اپنی ماں کا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھا… اور ایک کھلے مینہول میں جا گِرا۔
ریسکیو ٹیمیں گھنٹوں تلاش کرتی رہیں۔ رات گزری، پھر صبح ہوئی۔
تقریباً 14 سے 15 گھنٹے بعد اس کی لاش ایک کلو میٹر دور سے ملی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ مینہول کئی دنوں سے کھلا پڑا تھا، شکایات بھی کی گئی تھیں — مگر کسی نے آ کر ڈھکن نہیں لگایا۔
اور یہی بات اس سانحے کو اور بھی کچوکے لگانے والی بنا دیتی ہے۔
ماہرہ خان کا شدید ردعمل: “آخر کراچی کا ذمہ دار ہے کون؟”
ماہرہ خان نے جو لکھا، وہ سیدھا دل پر لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بار بار ابراہیم کی ماں کے چیخنے، رونے اور ٹوٹنے کی کیفیت کے بارے میں سوچتی رہیں — اور پھر انہوں نے وہ سوال پوچھا جو آج ہر شہری پوچھ رہا ہے:
“کراچی میں کراچی کا جواب دینے والا آخر ہے کون؟”
یہ جملہ صرف غصہ نہیں تھا — یہ ایک درد بھری چیخ تھی۔
سجل علی: “یہ دل توڑ دینے والا اور شرمناک ہے”
سجل علی نے بھی اپنے جذبات روکے بغیر لکھا کہ یہ واقعہ انتہائی دلخراش ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک ایسے نظام کی ناکامی ہے جو بار بار شہریوں کو مایوس کرتا ہے۔
ان کے الفاظ وسیع پیمانے پر شیئر ہوئے — کیونکہ وہ بات انہوں نے کہی جسے ہزاروں لوگ محسوس کر رہے تھے۔
علاقہ مکینوں کا احتجاج — اور شہر کا غصہ
جب بچے کی لاش ملی تو مقامی لوگ سڑک پر آ گئے۔
انہوں نے راستہ بند کیا، ٹائر جلائے، اور ذمہ داروں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
ان کے چہروں پر غصہ بھی تھا اور تھکن بھی — وہ تھکن جو سالوں سے ٹوٹی سڑکیں، کھلے مینہول، بارش کے بعد تباہ حال گلیاں اور بے حسی دیکھتے دیکھتے دل میں جم گئی ہو۔
اس بار لوگوں نے کہہ دیا:
بس بہت ہو گیا۔
یہ سانحہ صرف ایک بچے کا نہیں — ایک ٹوٹے ہوئے نظام کا آئینہ ہے
کراچی کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ نیا نہیں۔
کھلے مینہول، بے ترتیب سڑکیں، ڈھکن چوری، صفائی کا بحران — سب کچھ برسوں سے اسی طرح چل رہا ہے۔
مگر ایک کھلا مینہول… ایک تین سالہ بچہ… اور ایک ماں کی چیخ — اس نے شہر کو اندر تک ہلا دیا ہے۔
یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا۔
یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ بنیادی تحفظ بھی شہریوں کو میسر نہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
افسران نے “تحقیقات” کا اعلان تو کر دیا ہے، مگر لوگ زیادہ امید نہیں رکھتے۔
کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔
لیکن اس بار شہر خاموش نہیں بیٹھا۔
مشہور شخصیات، عام شہری، طلبہ، سماجی کارکن — سب ایک ہی بات کہہ رہے ہیں:
جانے والا بچہ واپس نہیں آئے گا، لیکن اس کی موت کے ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے۔
کیونکہ ایک معصوم زندگی صرف اس لیے نہیں جانی چاہیے تھی کہ کسی نے ایک ڈھکن لگانا “ضروری” نہیں سمجھا۔
