رپورٹ: آمنہ اقبال، کراچی
شہر قائد میں مون سون کے آغاز کے ساتھ ہی وبائی امراض کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق کراچی میں کانگو وائرس (Crimean-Congo Hemorrhagic Fever – CCHF) کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ مریض کو فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) منتقل کیا گیا، جہاں اسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ اسپتال کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مریض کی حالت نازک ہے اور اس کا مکمل علاج جاری ہے۔ مریض کا تعلق اندرون سندھ کے ایک دیہی علاقے سے بتایا جا رہا ہے جو قربانی کے جانوروں کے سلسلے میں شہر آیا تھا۔
کانگو وائرس ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ہے جو زیادہ تر ٹِک (چیچڑ) کے ذریعے پھیلتا ہے، اور یہ جانوروں خصوصاً گائے، بکری، اونٹ اور بھیڑ کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ قربانی کے ایام قریب ہونے کے باعث ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جانوروں کی خرید و فروخت کے دوران انتہائی احتیاط برتیں۔
محکمہ صحت سندھ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہر کے مختلف اسپتالوں کو الرٹ کر دیا ہے، جبکہ عباسی شہید اسپتال، سول اسپتال اور انڈس اسپتال کو بھی تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ اسپتالوں میں کانگو وائرس کے ممکنہ مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز مختص کیے جا رہے ہیں اور عملے کو حفاظتی لباس (PPE) فراہم کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، متلی، الٹی اور ناک یا منہ سے خون آنا شامل ہیں۔ اگر ان علامات کا سامنا ہو تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے اور خود کو دوسروں سے الگ کر لینا چاہیے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ براہ راست رابطے سے پرہیز کریں، دستانے پہنیں، اور بچوں کو جانوروں کے قریب نہ جانے دیں۔ ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مویشی منڈیوں میں اسپرے، ویکسینیشن اور صفائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔
اگرچہ یہ پہلا کیس ہے، مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے، خصوصاً عید الاضحیٰ کے دنوں میں۔
