شہر قائد میں خالص دودھ کا حصول ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، اور تازہ ترین لیبارٹری رپورٹ نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے دودھ کے تمام نمونے مضرِ صحت ثابت ہوئے ہیں، جو نہ صرف صفائی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ دودھ کی ترسیل اور فروخت کے دوران حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی بھی ظاہر کرتا ہے۔
عدالتی حکم پر ممبر معائنہ ٹیم نے دودھ کی کوالٹی سے متعلق یہ تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ شہر بھر سے لیے گئے نمونوں میں ایک بھی ایسا نمونہ شامل نہیں تھا جو انسانی استعمال کے قابل ہو۔
رپورٹ میں جراثیم کی زیادتی، پانی کی ملاوٹ، ناقص اسٹوریج، اور صفائی کے غیر معیاری طریقوں کو بنیادی مسائل قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے لیبارٹری رپورٹ کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا، تاکہ مستقبل میں سخت اقدامات کی راہ ہموار کی جاسکے۔
سماعت کے دوران کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کی قیمتوں کا نیا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق ڈیری فارمز کے لیے قیمت 200 روپے فی لیٹر جبکہ ریٹیلرز کے لیے 220 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتیں مقرر کر دینے سے معیار بہتر نہیں ہوگا، جب تک شہر میں دودھ کی سپلائی چین، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج اور ہائجن کے نظام کو بہتر نہ کیا جائے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مضر صحت دودھ استعمال کرنے سے بچوں میں کمزوری، پیٹ کی بیماریاں، معدے کے انفیکشن اور طویل مدتی صحت کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
شہریوں نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دودھ کی کوالٹی یقینی بنانے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
