کراچی: کراچی کی سیشن عدالت نے مقتول کاروباری شخصیت میر رضا علی کے کاروباری ساتھی محمد احمد کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر 2026 تک توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کی جاری تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔
محمد احمد کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کراچی سٹی کورٹ میں ہوئی۔
سماعت کے دوران احمد کے وکیل خالد ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے اس خدشے کے پیش نظر ضمانت حاصل کی کہ میر رضا علی کے کاروباری ساتھی ہونے کی وجہ سے انہیں مقدمے میں آسان ہدف بنا کر ملوث کیا جاسکتا ہے۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ پولیس احمد کو بار بار تھانے طلب کرکے مبینہ طور پر ہراساں کر رہی ہے۔
میر رضا علی کے اہلخانہ کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے احمد کو گرفتار کرنے کے لیے نہیں بلکہ تفتیش اور پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ محمد احمد میر رضا علی کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے تفتیش کے لیے ان کا بیان ریکارڈ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت احمد کو ضمانت دینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے قتل کی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں پوچھا، جس پر افسر نے بتایا کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔
عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا محمد احمد کو باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ احمد کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی پولیس رپورٹ یا چالان میں ان کا نام شامل ہے۔ افسر کے مطابق تاحال چالان بھی تیار نہیں کیا گیا۔
عدالت نے بعد ازاں محمد احمد کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تھانے میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
عدالت نے محمد احمد کو آئندہ سماعت تک کراچی سے باہر جانے سے بھی روک دیا ہے۔
